تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 575
تاریخ احمدیت 575 جلد ۲۰ میں سے دس افریقن ہوں۔دس یورپین اور دس ایشیائی۔ان مریضوں کے بارہ میں ڈائرکٹر آف میڈیکل سروسز کینیا با قاعدہ یہ تصدیق کریں کہ فی الواقع یہ لاعلاج ہیں۔ان مریضوں کو پھر مبلغ اسلام اور ڈاکٹر گراہم کے درمیان قرعہ کے ذریعہ تقسیم کر دیا جائے۔شیخ مبارک احمد نے لکھا تھا کہ اس کے بعد دونوں مذاہب کے پیروؤں میں سے چھ چھ آدمی اور شامل ہوں گے۔پھر ہم اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے مریضوں کی صحت یابی کے لئے خدا کے حضور دُعا کریں گے تا کہ اس امر کا فیصلہ ہو سکے کہ دونوں میں کس کو خدائی تائید ونصرت حاصل ہے اور کس پر آسمان کے دروازے بند ہیں۔“ وو د کسی کو چنگا نہیں کیا جائے گا“ جلسے کے اختتام پر ایک ایشیائی ڈاکٹر گراہم کے پاس آیا اور اس نے اس سے دریافت کیا کہ وہ کوئی ایسی مجلس بھی منعقد کریں گے کہ جس میں مریضوں کو چنگا کرنے کا انتظام کیا جائے۔“ ڈاکٹر گراہم نے جواب دیا۔” میرا منصب وعظ کرنا ہے چنگا کرنا نہیں۔میں صرف وعظ کرتا ہوں اور دُعا کرتا ہوں کہ خد کی مرضی پوری ہو قبل ازیں شیخ مبارک احمد نے دعوی کیا تھا کہ اگر ڈاکٹر گراہم نے چیلنج قبول کرنے سے انکار کیا تو اس سے دُنیا پر ثابت ہو جائیگا کہ صرف اسلام ہی ایسا مذہب ہے جو بندے کا خدا سے تعلق قائم کرنے کی صلاحیت اپنے اندر رکھتا ہے۔“ شیخ مبارک احمد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے خود ذاتی طور پر دُعا کے ذریعے لوگوں کا علاج کیا ہے اور وہ شفایاب ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مشرقی افریقہ میں ڈاکٹر گراہم عیسائیت کو فائدہ پہنچانے کی بجائے الٹا نقصان پہنچا رہے ہیں۔یہاں عیسائی ہونے والے مسلمانوں کے مقابلہ میں خود عیسائی بہت زیادہ تعداد میں اسلام قبول کر رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹانگا نیکا میں تقریباً پچاس لاکھ مسلمان ہیں۔دنیائے عیسائیت میں زبر دست اضطراب و تشویش ڈاکٹر بلی گراہم نے قاہرہ پہنچ کر کہا کہ انہوں نے افریقہ میں عیسائی لیڈرشپ کو بہت مضبوط پایا اور کہ تعلیمیافتہ لوگوں کی اکثریت عیسائی مشن سکولوں کی فارغ التحصیل ہے اور کہ یہ بات نہایت حوصلہ افزا ہے لیکن اسلام بھی بڑی سرعت کے ساتھ ترقی کر رہا ہے۔وا پس امریکہ پہنچ کر ڈاکٹر موصوف نے اسلام کی ترقی پر فکر مندی کا ظہار کیا اور اس بات کی