تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 561
تاریخ احمدیت 561 اس کے بعد ۱۵/جنوری کو انہوں نے پھر مجھے لکھا :۔جلد ۲۰ ” میں نے ڈاکٹر بلی گراہم سے آپ کی ملاقات کے بارے میں ڈاکٹر جیری بیون (JERRY BEAVEN) سے جو کہ ڈاکٹر گراہم کی آمد کے سلسلہ میں جملہ انتظامات کو آخری شکل دینے کے ذمہ دار ہیں، سے گفتگو کی ہے وہ مجھ سے اس بات میں اتفاق رکھتے ہیں کہ آپ کی تجویز نہایت قابل قدر ہے لیکن انہوں نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ میں آپ تک ان کی خلوص دل سے معذوری کا اظہار کر دوں کہ جس قسم کی میٹنگ کی آپ نے تجویز پیش کی ہے اس کا انعقاد ناممکن ہے۔ڈاکٹر گراہم ان ڈاکٹری ہدایات کے ماتحت جو گزشتہ اٹھارہ ماہ سے ان کے ڈاکٹر نے انہیں دے رکھی ہیں۔افریقہ کے دورے کو نہایت مختصر کرنے پر مجبور ہیں ان کا وقت بڑے بڑے جلسوں میں تقاریر کرنے اور اپنے مشنریوں سے گفت و شنید میں ہی صرف ہو گا۔اگر آپ ڈاکٹر گراہم کے عقائد کے متعلق واقفیت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ان جلسوں میں شمولیت کریں جن میں کہ وہ تقاریر کریں گے۔وہ نہ تو کوئی عالم دین ہیں اور نہ ہی ادبیات کے ماہر۔بلکہ وہ ایک عیسائی مبلغ ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف یسوع مسیح کی انجیل کو پیش کرتے ہیں۔اگر آپ عیسائیت کے متعلق مزید واقفیت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور آپ کی یہ خواہش ہے کہ آپ اس سلسلہ میں طویل و مفصل گفت و شنید کریں تو میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ آپ لوکل عیسائی مبلغین سے بات چیت کریں جو کہ ایسی بات چیت کرنے کے لئے ہر وقت بخوشی تیار ہیں۔میں ایک دفعہ پھر آپ کی دلچسپی کی داد دیتا ہوں۔جب خاکسار نے دیکھا کہ ڈاکٹر بلی گراہم سے ملاقات اور مناظرہ کی کوئی صورت پیدا ہوتی نظر نہیں آتی تو خاکسار نے ایک خط ان کے نام لکھا جس کا متن درج ذیل ہے میں احمد یہ جماعت کے جملہ احباب کی طرف سے جن کا مشنری انچارج ہونے کا مجھے فخر حاصل ہے۔آپ کو نائیجیریا میں آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔میری خواہش ہے کہ جب آپ یہاں سے کسی اور جگہ جائیں تو آپ یہاں کی بہترین یاد میں اپنے ساتھ لے کر جا ئیں۔اس ملک میں دو بڑے اور اہم مذہب ہیں۔اور وہ ہیں اسلام اور عیسائیت اور ان دونوں مذاہب کے پیروکاروں کیلئے یہ بات از حد اہم ہے کہ ان کے تعلقات استوار رہیں۔اور تعلقات کی یہ استواری جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے ان کے لیڈروں کے رویہ پر منحصر ہے۔