تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 547
تاریخ احمدیت 547 جلد ۲۰ دوسرے سر بر آوردہ اصحاب بھی تھے۔اس موقعہ پر مندرجہ ذیل اہم شخصیتوں نے مبارک بادی کے برقی پیغامات ارسال کئے۔وزیر اعلیٰ صاحب، وزیر امور دینیات ، وزیر نشریات، وزارت امور دبینیات محکمہ مذہبیات، محکمہ نشریات، گورنر وسطی جاوا، انسپکٹر جنرل پولیس انڈونیشیا، وزیر زراعت، میئر آف جا کرتا۔سپیکر آف دی پارلیمنٹ ، ریذیڈنٹ میگلا نک۔ایک اجلاس میں جماعت احمد یہ انڈونیشیا کا سالانہ بجٹ منظور کیا گیا۔نیز آئندہ تین سال کے لئے نئے عہدیداران مرکزی کا انتخاب عمل میں آیا۔۲۶ / جولائی کو ایک وسیع ہال میں ایک تبلیغی جلسہ عام ہوا جس میں مولوی عبدالواحد صاحب، ملک عزیز احمد صاحب اور مولانا سید شاہ محمد صاحب نے بالترتیب اسلام کی نشاۃ ثانیہ، مسئلہ ارتقاء روحانی و جسمانی اسلامی نقطۂ نگاه سے اور اسلام زندہ مذہب کے موضوع پر بصیرت افروز لیکچر دیئے۔ایک پروفیسر اور ایک ایڈووکیٹ دوست نے کہا اگر یہ تقریریں یونیورسٹی ہال میں ہوتیں تو مقررین ڈاکٹر کی ڈگری کے مستحق تھے۔جلسہ کے آخری اجلاس میں مولوی زہدی صاحب، مولوی محمد ایوب صاحب اور مولانا ابوبکر ایوب صاحب ( سابق مجاہد ہالینڈ) کی تقاریر ہوئیں اور اجتماعی دعا پر یہ عظیم الشان جلسہ کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔دعا کے موقع پر مخلص احمدیوں کی آنکھوں سے جاری تھے اور چینیں نکل رہی تھیں۔۶۷ مجاہد بین احمدیت کی روانگی اور کامیاب مراجعت ۱۹۵۹ء میں مندرجہ ذیل مبشرین بیرونی ممالک میں بغرض اعلائے کلمۃ اللہ تشریف لے گئے۔۱- چوہدری نذیر احمد صاحب ایم ایس سی غانا (۱۶/جنوری ۱۹۵۹ء) (از کراچی ) -۲- خان بشیر احمد خان صاحب رفيق مع اہل و عیال انگلستان (۱۸/جنوری ۱۹۵۹ء ) ۳- حافظ محمد سلیمان صاحب مشرقی افریقہ (۵ / مارچ ۱۹۵۹ء) -۴ - شیخ مبارک احمد صاحب مشرقی افریقہ (۷/ مارچ ۱۹۵۹ء) ۵ - مرزا لطف الرحمن صاحب جرمنی (۴ را پریل ۱۹۵۹ء) ۶ - مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر مشرقی افریقہ ( رمئی ۱۹۵۹ ء ) ۷۔مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم غانا (۲ ستمبر ۱۹۵۹ء) ۸- علی صالح صاحب مشرقی افریقہ (۵/ دسمبر ۱۹۵۹ء ) ۹ - مولوی محمد صدیق صاحب شاہد گورداسپوری سیرالیون (۹ / دسمبر ۱۹۵۹ء) ۱۰- مولوی عبد اللطیف صاحب شاہد پریمی غانا (۹ / دسمبر ۱۹۵۹ء)