تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 546
تاریخ احمدیت 546 جلد ۲۰ سنایا جس نے سامعین پر رقت کی کیفیت طاری کر دی۔آپ نے اپنی صدارتی تقریر میں گذشتہ سال کی ترقی پر اچٹتی نظر ڈالی۔نیز پریذیڈنٹ انڈونیشیا سوکا رنو صاحب کی ایک ملاقات کا ذکر کیا جس میں انہوں نے ایک سفیر سے جماعت احمدیہ کی مساعی کی تعریف کی اور کہا کہ جماعت کی کوششیں انڈونیشین لوگوں کی ترقی میں ممد و معاون ثابت ہوئی ہیں۔سفیر صاحب نے بعد میں ایک ملاقات کے دوران مولانا سید شاہ محمد صاحب سے کہا کہ وہ تو ایسی باتیں کر رہے تھے جیسا کہ جماعت احمدیہ کے مبلغ ہیں۔افتتاحی اجلاس کے بعد جماعت احمد یہ جو گجا کرتا کی پہلی بیت الذکر کا افتتاح عمل میں آیا۔جلسہ سالانہ میں جنرل سیکرٹری صاحب نے گذشتہ سال کی رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ : ا۔اس سال تین نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔کبومین (وسطی جاوا ) چی لیگون (جاکرتا کا مغربی علاقہ ) با تو راجا ( جنوبی سماٹرا )۔۲- ملک عزیز احمد صاحب نے قرآن کریم کا انڈو نیشین ترجمہ مکمل کر لیا۔۳ - خدام الاحمدیہ اور ناصرات الاحمدیہ کی تعلیمی کلاس منعقد ہوئی۔۴ - تین سونفوس داخل احمدیت ہوئے۔۵- پورے ملک میں دوبارہ کامیاب یوم التبلیغ منایا گیا۔جلسہ سالانہ کے ایام میں شہر کے وسطی اور موزوں حصہ میں ایک نہایت خوبصورت اور وسیع ہال میں جماعت انڈونیشیا کا استقبالیہ جلسہ ہوا۔ہال میں ایک ہزار کرسیاں قرینہ سے لگائی گئیں۔اس کے باوجود سینکڑوں کو گیلری میں کھڑا ہونا پڑا۔راڈون ہدایت صاحب صدر، عہدیداران اعلیٰ مرکز یہ نے اپنے خطاب میں پاکستانی مبلغین اور جماعت احمدیہ انڈونیشیا کی نا قابل فراموش قومی خدمات کا تذکرہ کیا۔اس ضمن میں راڈون محی الدین مرحوم ( خسر ملک عزیز احمد صاحب مجاہد انڈونیشیا) اور مولانا سید شاہ محمد صاحب رئیس التبلیغ کی خدمات کو بہت سراہا۔اول الذکر نے قومی تحریک کے دوران جام شہادت نوش کیا اور ثانی الذکر نے متعدد کارنامے انجام دیئے جن کو حکومت انڈونیشیا نے بھی سراہا۔جس کا ثبوت یہ ہے کہ جب حکومت کا مرکز جا کرتا تبدیل ہوا تو ہوائی جہازوں پر جو وفد روانہ ہوا ان میں سید شاہ محمد صاحب بھی تھے۔شاہ صاحب نے اپنی تقریر میں احمدیت کا پس منظر اور اس کی خدمات پر بھی روشنی ڈالی۔حاضرین نے جن میں اکثریت کالج کے طلبہ پر مشتمل تھی تقاریر کا زبر دست خیر مقدم کیا۔جلسہ میں سلطان جو گجا کرتا کے مندوب PALN ISLAM والئی شہر کے نمائندہ، پروفیسر ، وکلاء اور