تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 543
تاریخ احمدیت 543 جلد ۲۰ جماعتوں کے ہزار ہا احباب نے شرکت کی۔جلسہ میں اہم دینی اور تعلیمی موضوعات پر انگریزی، عربی ، ہاؤسا وغیرہ زبانوں میں تقاریر ہوئیں اور ان کی ترجمانی یورو با زبان میں بھی کی گئی۔جلسہ سے مولانا نسیم سیفی صاحب، مولوی محمد بشیر صاحب شاد، عبدالسلام صاحب معلم ، موسیٰ محمد صاحب، حبیب صاح معلم ، الحاج فلا دیو صاحب ، مسٹر اور لیں، الف کبوا صاحب، محمد اسحاق صاحب اور مولوی مبارک احمد صاحب ساقی نے خطاب کیا۔مخلصین جماعت نے سو پاؤنڈ کی مالی قربانی پیش کی۔اس موقع پر جماعت احمدیہ نائیجیریا کی مجلس شوریٰ کا بھی اجلاس ہوا۔نیز فیصلہ کیا گیا کہ یو نیورسٹی کالج ابادان سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اپنے ہاں اسلامی علوم کی تدریس کا اعلیٰ پیمانے پر انتظام کرے۔اس سلسلہ میں کالج کا ہاتھ بٹانے کے لئے جماعت کی خدمات پیش کرنے کا بھی فیصلہ ہوا۔جلسہ کے اختتام پر پورے عزم کے ساتھ یہ عہد دہرایا گیا کہ نظام خلافت کے ساتھ ہمیشہ وابستہ رہیں گے اور اس کی مضبوطی اور استحکام کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے اور آئندہ نسلوں کو بھی خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے اور پوری تندہی سے دعوت الی اللہ کا فریضہ ادا کرنے کی تلقین کرتے رہیں گے۔سٹیج کے ساتھ نائیجیریا مشن کی مطبوعات اور جماعت احمدیہ کے بین ۲۵ الاقوامی جرائد کی نمائش کا بھی انتظام تھا جو حاضرین جلسہ کے لئے گہری دلچسپی کا باعث ہوا۔وسط ۱۹۵۹ء میں نائیجیریا کے گورنر جنرل سر جیمس را برٹسن تین روز کے دورہ خیر سگالی پر لائبیریا تشریف لائے۔اس تقریب پر انہیں مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری انچارج لائبیریا مشن نے جماعت کی طرف سے ایڈریس پیش کیا۔نیز دینی لٹریچر تحفہ پیش کیا جو احمدیت کے لائبیریا تعارف پر مشتمل تھا۔ایڈریس کے جواب میں اُن کے پرائیویٹ سیکرٹری مسٹر جے بونیارڈ کی طرف سے حسب ذیل مکتوب موصول ہوا:- ترجمہ از گورنمنٹ گیسٹ ہاؤس“ منروویا۔لائبیریا۔۶ جولائی ۱۹۵۹ء محترم الحاج مولوی محمد صدیق صاحب مجھے نائیجیریا کی متحدہ حکومت کے گورنر جنرل ہزایکسیلنسی سر جیمس را برٹسن نے آپ کو جواب دینے اور انہیں قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ اور مذہب