تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 510
تاریخ احمدیت 510 جلد ۲۰ اس طرح انہوں نے عمارت کی بنیادیں کھود نے اور انہیں کنکریٹ سے بھرنے کا کام خود سرانجام دیا۔اپنی ان کوششوں کے نتیجہ میں انہوں نے دو ماہ ہوئے فضل عمر خیراتی ڈسپنسری کو ایک ہسپتال میں تبدیل کر دکھایا ہے۔فضل عمر خیراتی ڈسپنسری جدید طرز کی ایک خوبصورت اور دلکش عمارت میں قائم ہے۔ڈسپنسری پوری با قاعدگی سے چل رہی ہے اور اس میں روزانہ بہت بڑی تعداد میں مریض آکر دوائیں وغیرہ حاصل کرتے ہیں۔ڈسپنسری کو دو ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کی خدمات حاصل ہیں۔ان میں سے ایک مشہور و معروف لیڈی ڈاکٹر مسٹر محمودہ بنت نذیر احمد ہیں۔یہ لیڈی ڈاکٹر صاحبه موصوفہ گزشتہ دو ماہ سے یعنی جب سے کہ یہ ڈسپنسری قائم ہوئی ہے۔باقاعدگی کے ساتھ رضا کارانہ طور پر خدمات بجالا رہی ہیں۔یادر ہے کہ ڈسپنسری کی افتتاحی رسم کراچی کے (سابق) چیف کمشنر جناب این ایم خان صاحب سی ایس پی نے ادا کی تھی اور پانچ سوروپے بطور عطیہ دیئے تھے۔مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر منتظمین نے اب اسے وسعت دے کر پوری طرح ساز وسامان سے آراستہ کلینک میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلہ میں مجلس خدام الاحمدیہ نے مزید کمرے تعمیر کرنے کا ذمہ اٹھایا ہے۔یہ مجلس سابق چیف انجینئر سید غلام مرتضی صاحب، مرزا عبدالرحیم بیگ صاحب قائد خدام الاحمدیہ اور تعمیر کمیٹی کے صدر نذیر احمد صاحب کی رہنمائی میں اس امر کی پوری کوشش کر رہی ہے کہ اراکین مجلس کی رضا کارانہ خدمات سے فائدہ اٹھا کر کم سے کم لاگت میں نئے کمرے تعمیر ہوسکیں۔بلا شبہ ان لوگوں نے خدمتِ خلق کی ایک بہت بڑی مثال قائم کر دکھائی ہے۔شہر میں طبی سہولتوں کی کمی اور رضا کارانہ خدمت کے قابلِ قدر جذ بے کے عام فقدان کے پیش نظر جماعت احمدیہ کے نوجوانوں کا یہ کارنامہ انتہائی طور پر قابلِ تعریف ہے۔انہوں نے جو مثال قائم کر دکھائی ہے وہ اس قابل ہے کہ ہماری معاشرتی زندگی کے ہر شعبہ میں اس کی تقلید کی جائے۔ہماری سابقہ ناکامیوں کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہم میں سماجی اور شہری احساس کا فقدان تھا۔ہم میں سے ہر ایک اپنی خاطر زندگی بسر کر رہا تھا۔قوم کی خاطر نہیں۔آؤ ہم بھی ان رضا کار نوجوانوں کی تقلید کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو از سرِ نویح خطوط پر استوار کریں اور اسی طرح قومی خدمت کا فریضہ بجالائیں جس طرح یہ لوگ اس فریضے کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔۴۲ 66