تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 496 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 496

تاریخ احمدیت 496 جلد ۲۰ تم میرے ساتھ ڈلہوزی چلے چلو۔حضرت صاحب سے ملاقات کر آئیں گے اور سیر تو ہو ہی جائے غرضیکه ۱۴ اگست ۱۹۴۶ء کو ہم صبح ۱۰ بجے کے قریب ڈلہوزی پہنچ گئے۔ظہر کے وقت حاضر ہوئے۔حضور نے نماز ظہر و عصر جمع کرائی اور اندرونِ خانہ تشریف لے گئے۔میں نے ایک مختصر سا رقعہ لکھ کر ایک خادمہ کے ہاتھ اندر بھجوا دیا کہ حکیم محمد نذیر صاحب سنگا پور سے آئے ہیں۔ملاقات کے خواہشمند ہیں۔چند منٹ عنایت فرمائے جائیں۔- حضور نے حکیم صاحب کو اندر بلوا لیا اور پھر تین گھنٹے تک تفصیل سے باتیں ہوئیں۔میں باہر نماز کے خیمے میں اکیلا بیٹھا ٹھٹھرتا رہا۔حکیم صاحب نے بھی پیغام رسانی کا حق ادا کر دیا۔اور حضور نے بھی ایک اعلیٰ درجے کے جرنیل کی طرح تمام معاملات کو اچھی طرح بھانپ لیا۔جب حکیم صاحب رخصت ہونے لگے تو حضرت نے فرمایا (مفہوم) کہ ” جب غلام حسین یہاں سے روانہ ہو رہا تھا تو مجھے شبہ تھا کہ یہ شخص اپنی روزانہ روٹی بھی کما سکے گا کہ نہیں۔مگر آپ نے تو بتایا ہے کہ جاپانی قبضہ سے پہلے ان کی ماہوار آمدنی تجارت سے ۳۰۰ ڈالر تھی۔انہوں نے خوب کام کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے اسرار بھی عجیب ہوتے ہیں۔اب جو نہی مجھے موقعہ ملے گا میں انشاء اللہ وہاں پر مزید مبلغ بھجوا ؤں گا۔حکیم صاحب واپس سنگا پور پہنچے تو مولوی صاحب سے ڈلہوزی والی ملاقات کا ذکر مزے لے لے کر کیا اور مولوی صاحب کمال مسرور ہوئے۔مگر اس کے بعد جلد ہی ان کی فوج کوچ کر کے جاوا چلی گئی۔ΔΙ " ۵- ماسٹر نذیر احمد صاحب رحمانی ( وفات ۸/نومبر ۱۹۵۹ء) آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے پرانے اساتذہ میں سے تھے۔ابتداء میں فیروز پور کے ایک سرکاری دفتر میں ملازم ہوئے لیکن ۱۹۱۸ء کے قریب ملازمت ترک کر کے خدمت دین کی نیت سے قادیان آ گئے۔آپ پہلے تعلیم الاسلام مڈل سکول گھٹیالیاں میں قریباً آٹھ سال تک بعد ازاں تعلیم الاسلام ہائی سکول ( قادیان و ربوہ ) میں تمہیں سال تک مدرس رہے۔اس طرح تمام عمر سلسلہ احمدیہ کی خدمت میں گزار دی۔