تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 33
تاریخ احمدیت 33 33 جلد ۲۰ فصل سوم تحر یک وقف جدید ایک غیر مسلم و دوان کی نظر میں وقف جودھ جیسی مبارک جدید تحریک کی دینی اور ملی سرگرمیوں سے مشرقی پنجاب کے بعض غیر مسلم حلقے بہت متاثر ہوئے چنانچہ مشہور سکھ لیڈر سردار امر سنگھ صاحب دو سانجھ سابق جنرل سیکرٹری شرومنی گوردوارہ پر بندھک کمیٹی امرتسر نے روز نامہ اکالی پتر کا جالندھر ( گورکھی ) کی دسمبر ۱۹۶۰ء کی اشاعت میں ایک مضمون لکھا جس میں وقف جدید کے انقلابی پروگرام کی تفصیل بتانے کے بعد تمام سکھوں سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک کو اپنے لئے نمونہ ٹھہرائیں اور اپنے مذہب کے پر چار کے لئے کوشش کریں۔سکھ لٹریچر کے مشہور سکالر جناب گیانی عباداللہ صاحب کے قلم سے اس مضمون کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے :- سردار امر سنگھ جی دوسانجھ اپنے مضمون کے شروع میں تحریر فرماتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کا مرکز ربوہ ضلع جھنگ (پاکستان) میں ہے۔ملک کی تقسیم سے قبل اس دینی جماعت کی سرگرمیوں کا مرکز ضلع گورداسپور کا ایک قصبہ قادیان تھا۔آج کل بھی وہاں احمدی کافی تعداد میں رہتے ہیں۔لیکن (حضرت) میرزا صاحب (اطال اللہ بقاه ) کی رہائش ربوہ میں ہونے کی وجہ سے اور مسلمانوں کے پاکستان میں ہجرت کر جانے کے باعث قادیان کی اہمیت بہت کم ہو گئی ہے اس جماعت نے بہت سے مشہور آدمی پیدا کئے ہیں۔جیسا کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب جو کسی وقت پاکستان کے وزیر خارجہ رہے ہیں یہ کہنا کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ اس جماعت سے تعلق رکھنے والوں میں ( دین حق کی اشاعت کا جذبہ بے حد ہے اور افریقہ، جرمنی، فرانس ، انگلینڈ ، امریکہ اور ملایا وغیرہ ممالک میں احمدی مبلغین پورے انہماک سے تبلیغ کرنے میں مصروف ہیں۔