تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 455 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 455

تاریخ احمدیت 455 ریٹائر ہونے کے بعد قادیان آگئے۔۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۲ء تک انگلستان میں بطور امام بیت الفضل لندن خدمات سرانجام دیں اور وہاں دعوت الی اللہ کا فریضہ نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیا۔وہاں سے واپس آکر آپ نے کچھ عرصہ ناظر امور عامہ و خارجہ کے طور پر کام کیا۔بعد ازاں ۱۹۳۴ء سے ۱۹۴۶ء تک اور پھر پاکستان بننے کے بعد ۱۹۵۰ء سے ۱۹۵۵ء تک ناظر مال ربوہ کے عہدے پر فائز رہے اور اس طویل عرصہ میں حضرت خلیفہ ثانی کی زیر ہدایت جماعت کے مالی نظام کو مستحکم کرنے میں قابل قدر خدمات انجام دیں۔نیز اوائل میں ایک سال افسر جلسہ سالانہ کے فرائض بھی ادا کئے۔آپ پر اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فضل یہ تھا کہ نہ صرف آپ خود خدمت دین کا بے پناہ جذ بہ رکھتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اولاد بھی خادم دین عطا کی۔آپ نے ۱۹۲۸ء میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوکر تقریباً ۲۷ سال تک صدرانجمن احمدیہ میں اہم عہدوں پر فائز رہ کر شاندار خدمات سرانجام دیں۔“ اخبار الفضل ربوہ اارجون ۱۹۵۹ء) آپ کی وفات پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے نے ایک شاندار مضمون اخبار الفضل میں تحریر فرمایا جس میں لکھا آپ بڑی خوبیوں کے مالک اور اول درجہ کے مخلصین میں شامل تھے اور تنظیم کا غیر معمولی مادہ رکھتے تھے۔چنانچہ جب قادیان آنے سے قبل فیروز پور اور راولپنڈی کی جماعتوں میں بہت کامیاب امیر رہے۔پینشن پانے کے معاً بعد آپ نے اپنے آپ کو خدمات سلسلہ کے لئے وقف کر دیا۔پھر آخر تک یعنی جب بیماری سے بالکل مجبور ہو گئے سلسلہ کی مخلصانہ خدمت میں مصروف رہے۔خان صاحب نے لندن میں (-) احمدیت کے کامیاب مربی کی حیثیت سے کام کیا اور اس کے بعد واپسی پر مرکز سلسلہ میں ایک کامیاب ناظر رہے۔وفات سے چند روز قبل جبکہ ان کی عمر ۸۵ سال سے تجاوز کر چکی تھی آپ کی خواہش تھی کہ خدا مجھے صحت دے تو پھر سلسلہ کی خدمت کی سعادت پاؤں خان صاحب مرحوم نمازوں کے بہت پابند اور دعاؤں اور وظائف میں خاص شغف رکھتے تھے۔ایسے بزرگ جماعت کے لئے بہت بابرکت وجود ہوتے ہیں۔“ روزنامه الفضل ربوہ ۱۶ جون ۱۹۵۹ء) جلد ۲۰