تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 454
تاریخ احمدیت 454 جلد ۲۰ خاں صاحب موصوف نے اس کیفیت کو دور فرمایا۔اس زمانہ میں ان کے ماموں خان صاحب برکت علی صاحب ایڈیشنل ناظر مال بنے جو حضرت مولوی فرزند علی صاحب کی بہت عزت کیا کرتے تھے لیکن وہ خود اپنی ذات میں بھی ایثار اور خدمت کی قابل تقلید مثال تھے۔اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے۔۴۴ حضرت خان صاحب کے پوتے محترم شیخ ناصر احمد خالد صاحب ( ابن پروفیسر شیخ محبوب عالم صاحب خالد صدر انجمن احمد یہ پاکستان ) رقمطراز ہیں :- ”ہمارا خاندان موضع صریح ، تحصیل نکو در ضلع جالندھر میں آباد تھا۔سرکاری کاغذات مال کے مطابق یہ خاندان سکھوں کی عملداری سے پیشتر ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کے کسی نواحی گاؤں سے آکر یہاں آباد ہوا تھا۔حضرت خان صاحب کے والد کا نام حضرت حکیم میاں عمر الدین صاحب ، دادا کا نام حکیم میاں غلام محی الدین صاحب اور پڑ دادا کا نام حکیم میاں خدا بخش صاحب تھا۔ہمارے خاندان کے مورث اعلیٰ کا نام حکیم میاں صریح الدین صاحب تھا اور ان کے نام پر ہی گاؤں کی بنیاد پڑی۔ان سب بزرگوں کا آبائی پیشہ حکمت تھا۔میرے دادا جان حضرت خان صاحب مولوی فرزند علی خان صاحب مورخه ۲۷ اکتوبر ۱۸۷۶ء کو پیدا ہوئے۔آپ کے ماموں حضرت خان صاحب منشی برکت علی خان صاحب شملوی ۱۹۰۲ ء میں بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہو چکے تھے۔اس طرح آپ کی والدہ محترمہ اور نانی صاحبہ بھی اسی سال بیعت کی سعادت پا چکی تھیں۔ہمارے خاندان کے بزرگ حضرت مسیح موعود کے رفقاء میں شامل تھے۔تا ہم آپ نے خود لمبی تحقیق کے بعد ۱۹۰۹ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے دست مبارک پر بیعت کر کے سلسلہ میں شمولیت اختیار کی۔گو آپ بعد میں آئے لیکن ایک دفعہ احمدیت قبول کرنے کے بعد آپ نے آخر تک اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کئے رکھی۔دوران ملازمت آپ ہمیشہ اہل ایمان کے مفاد کے لئے سینہ سپر رہے۔۱۹۲۸ء میں آپ سرکاری ملازمت سے