تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 406 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 406

تاریخ احمدیت 406 پہنچیں اھلا و سهلا و مرحبا۔اور نعرہ ہائے تکبیر اور دیگر اسلامی نعروں سے فضا گونج اٹھی۔درویشان قادیان و دیگر احباب ایک لمبی قطار میں کھڑے تھے۔جناب چوہدری اسد اللہ خان صاحب کی قیادت میں سب مہمان بسوں سے اتر کر باری باری مصافحہ کرتے اور السلام علیکم کا تحفہ پیش کرتے چلے گئے اور کچھ دیر بعد سب مہمانوں کو ان کی فرودگا ہوں میں پہنچا دیا گیا۔جلسہ سالانہ کے جملہ انتظامات از فتم خدمت و تواضع مهمانان کرام محترم مرزا وسیم احمد صاحب افسر جلسہ سالانہ کی نگرانی میں نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام پائے اور کم و بیش سو درویشان نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت میں نہایت مستعدی اور پوری تندہی سے کام کیا اور مہمانانِ کرام کو آرام پہنچانے میں حتی الامکان کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔اور ہر طرح محبت و اخلاص سے خدمت کر کے علی قدر المراتب خدا تعالیٰ سے بہتر اجر کے مستحق بنے۔ان کے اخلاص کو بڑھانے اور پرخلوص خدمات کو بپایہ قبولیت جگہ دے۔آمین۔مہمانانِ کرام کے قیام کا مجموعی انتظام مدرسہ احمدیہ، دار المسیح اور نصرت گرلز سکول میں کیا گیا تھا۔علاوہ ازیں ایک معقول تعداد ہند و پاکستان و بیرون جات سے آنے والی فیملیز کی تھی جن کے لئے درویشانِ کرام نے اپنے مکانوں کا ایک حصہ پیش کر کے ان کے علیحدہ قیام اور آرام و آسائش کا اہتمام کیا۔فجز اہم اللہ احسن الجزاء۔احباب جماعت قادیان میں محض مقامات مقدسہ کی زیارت اور ذکر الہی و دعاؤں کی خاطر آتے ہیں اور عرصہ قیام قادیان میں ان کا تمام تر یہی روحانی مشغلہ رہتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے ان مبارک ایام میں سب احباب انفرادی دعاؤں ، نوافل کی ادائیگی اور ذکر الہی میں مشغول رہے اور انہیں مساجد میں باجماعت پنجگانہ نمازوں کے علاوہ روزانہ نماز تہجد بھی باجماعت ادا کرنے کا موقع میسر رہا۔اسی طرح جلسہ سالانہ کے افتتاح و اختتام پر اجتماعی دعائیں ہوئیں اور مورخہ ۱۸؍ دسمبر کو نماز جمعہ کے بعد مقبرہ بہشتی میں تدفین کے لئے حیدرآباد سے آئے ہوئے دو جنازوں کی جلد ۲۰