تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 405 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 405

تاریخ احمدیت 405 جلد ۲۰ ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم وتب علينا انك انت التواب الرحيم آمين يا ارحم الراحمين نوٹ :- جو بھائی توفیق پائیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر میرا عاجزانہ سلام پہنچائیں اور دعا کریں کہ حضور کے قدموں کے طفیل اللہ تعالیٰ مجھے خدمت دین کی توفیق دے اور میرا انجام بخیر ہو۔والسلام خاکسار : مرزا بشیر احمد۔۱۴؍ دسمبر ۱۹۵۹ء دوسرے کوائف مندرجہ بالا اہم پیغامات کا تذکرہ کرنے کے بعد اس مبارک اجتماع کے دوسرے اہم کوائف پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔اخبار بدر ۲۴ / دسمبر ۱۹۵۹ء نے لکھا: - وو جلسہ کی تاریخیں ۱۵، ۱۶، ۱۷ دسمبر تھیں جس میں شرکت کے لئے ۱۳ / دسمبر سے ہی احباب قادیان پہنچنے شروع ہو گئے۔ان میں اندرون ملک کے مختلف مقامات کے دوستوں کے علاوہ بیرونی ممالک مثلاً جزائر ، فجی، ماریشس، عدن ، افریقہ، برما کے احباب مقررہ تاریخوں سے ایک دو روز قبل ہی تشریف لے آئے۔سب کے قیام و طعام کا خاطر خواہ اہتمام کیا گیا۔ادھر ۱۴ دسمبر کو پانچ بسوں میں سوار پاکستانی احمدیوں کا قافلہ بھی سات بجے پہنچ گیا۔پاکستانی قافلہ ابھی بٹالہ سڑک پر ہی تھا کہ اطلاع ملنے پر منارۃ اسیح کے آٹھوں بجلی کے لیمپ روشن کر دیئے گئے اس طرح منارہ کی برقی روشنی نے دور ہی سے مسیح پاک کے معزز مہمانوں کا خیر مقدم کیا جبکہ دیار مسیح سے نکلنے والی شعاؤں کو دیکھ کر اہلِ قافلہ پر غیر معمولی رقت طاری ہو گئی اور سب ہی زیرلب دعاؤں میں مشغول ہو گئے۔قافلہ کی پانچوں بسیں ڈلہ کے موڑ سے گھوم کر پرانے اڈہ خانہ سے ریتی چھلہ کے پاس سے گزرتی ہوئیں محلہ دار الانوار میں پہنچ گئیں اور بیت الظفر سے احمد یہ محلہ کی طرف مڑ گئیں۔ادھر ضیاء الاسلام پریس اور جلسہ گاہ کے قریب جملہ درویشان قادیان اور حاضر الوقت مہمانان اپنے پاکستانی احمدی بھائیوں کی پیشوائی کے لئے موجود تھے۔مقام استقبال پر بجلی کی روشنی کا خاطر خواہ انتظام تھا۔جونہی بسیں اس جگہ پر