تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 24
تاریخ احمدیت 24 تعاون کریں یہ اتنا تھوڑا علاقہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں مہینہ میں ایک دو دن کے اندر اندر تمام علاقہ کو دیکھا جا سکتا ہے اور اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ سلسلہ کا خرچ بہت سانچ جائے گا۔اگر ربوہ سے انسپکٹر چلے تو کراچی تک تھرڈ کلاس میں بھی اکیس روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔اور اب تو ریل کے کرایوں پر ٹیکس بھی لگا دیا گیا ہے جس سے کرایہ میں اور بھی زیادتی ہوگئی ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر ہم وہاں سے انسپکٹر بھجوائیں تو اس کے آنے جانے میں پچاس روپے لگ جائیں گے لیکن اگر یہاں سے کوئی آدمی چلا جائے اور وہ نواب شاہ تک کے علاقہ کی نگرانی کرے تو خرچ میں بہت سی تخفیف ہو جائے گی۔دوسرے کام جلدی جلدی ہونے لگے گا۔وہاں سے انسپکٹر آئے تو ہمیں انتظار رہے گا۔کہ نہ معلوم وہ کب تک سب مقامات کا دورہ کر کے واپس آتا ہے۔لیکن اگر ملک کے مختلف سیکشن مقرر ہوں۔تو نگرانی میں بڑی آسانی ہوسکتی ہے۔مثلاً پشاور والے نگرانی کا کام سنبھال لیں تو وہ مردان ایک ہی دن میں جا کر واپس آ سکتے ہیں۔نوشہرہ سے بھی اُسی دن واپس آ سکتے ہیں۔راولپنڈی بھی ایک دن میں آ جا سکتے ہیں۔۱۹۵۶ء میں جب ہم مری میں تھے۔تو ایک دفعہ ہم نے ایک پہاڑی مقام پر سیر کے لئے جانے کا ارادہ کیا اور چاہا کہ وہاں دُنبہ پکا کر لے چلیں۔کیپٹن محمد سعید صاحب جو ان دنوں وہاں ہوتے تھے ان کو ہم نے بھیجا کہ وہ کہیں سے اچھا سا دُنبہ تلاش کر کے لے آئیں۔جب وہ دُنبہ لے کر واپس آئے تو اُنہوں نے بتایا کہ یہاں چونکہ اچھا دُنبہ نہیں ملتا تھا۔اس لئے میں پشاور چلا گیا تھا۔اور وہاں سے دُنبہ لے آیا۔تو پشاور سے راولپنڈی تک آنا جانا بڑا آسان ہے۔پس پشاور والے اگر ہمت کریں تو اُن کا انسپکٹر مردان نوشہرہ، راولپنڈی، ایبٹ آباد اور مری وغیرہ کی آسانی سے نگرانی کر سکتا ہے۔بلکہ اب تو ایبٹ آباد میں بھی اتنے احمدی ہیں کہ ممکن ہے وہی اپنے اردگرد کے علاقہ کو سنبھال لیں اسی طرح ملتان کی جماعت ایک بڑی ہوشیار جماعت ہے۔اگر وہ توجہ کرے تو ممکن ہے کہ وہ بھی کئی ضلعے سنبھال لے مثلاً منٹگمری ہے۔اوکاڑہ ہے۔میاں چنوں ہے۔چیچہ وطنی ہے پھر کبیر والہ ہے۔شورٹ کوٹ ہے۔یہ تمام علاقہ ایسا ہے جس کو ملتان کی جلد ۲۰