تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 389 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 389

تاریخ احمدیت 389 علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کرشن اوتار بھی قرار دیا گیا ہے۔آپ کا الہام ہے کہ ” ہے کرشن روڈ ر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔66 جلد ۲۰ پس اگر دنیا نہیں تو کم سے کم ہندوستان کے ہندوؤں کو تو۔۔۔۔احمدیت میں داخل کرلو تا کہ اصلها ثابت کی مثال تم پر صادق آجائے اور فرعها في السماء بھی اس کے نتیجہ میں پیدا ہو جائے۔آجکل ہندوستان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے لوگوں کو احمدیت کی طرف بڑی رغبت پیدا ہو رہی ہے اور بڑے بڑے مخالف بھی احمدیت کے لٹریچر سے متاثر ہورہے ہیں۔اور زیادہ اثر ان پر ہماری تفسیر کی وجہ سے ہوا ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کو بڑھا دے تو لاکھوں لوگ ہماری جماعت میں داخل ہو سکتے ہیں۔بے شک ہم میں کوئی طاقت نہیں لیکن ہمارے خدا میں بہت بڑی طاقت ہے پس اسی سے دعائیں کرو اور ہمیشہ ( دین حق) کے جھنڈے کو دنیا کے تمام مذاہب کے جھنڈوں سے بلند رکھنے کی کوشش کرو۔66 نہایت ہی مبارک دن ۲۴ اکتوبر ۱۹۵۹ء کا دن جماعت احمدیہ کے لئے اس سال کا نہایت ہی مبارک دن تھا۔کیونکہ اس دن سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثانی متعنا الله بطول حیاتہ طویل مدت کے بعد ( جبکہ حضور علالت طبع کے باعث تشریف نہ لاسکے) پہلی مرتبہ اپنے خدام کے درمیان رونق افروز ہوئے انہیں اپنے دیدار سے مشرف کیا اور اپنے زندگی بخش اور روح پر ور خطاب سے نوازا۔الحمد للہ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ خدام الاحمدیہ کے اٹھارویں سالانہ اجتماع کے موقعہ پر مورخہ ۲۳/اکتوبر کو بعد نماز عصر اجتماع میں تشریف لائے تھے اور حضور نے کار میں بیٹھ کر مقام اجتماع کا چکر لگایا۔مورخه ۲۴ اکتوبر کو جو نہی خدام کو علم ہوا کہ حضور آج بھی تشریف لا رہے ہیں۔تو وہ حضور کے دیدار سے مشرف ہونے کے لئے سراپا انتظار بن گئے اور بے تابی کے ساتھ ان راستوں کی طرف دوڑنے لگے۔جہاں سے کی کارنے گزرنا تھا۔لیکن ان کی خوشی اور شادمانی کی انتہاء نہ رہی جبکہ حضور کی کار سٹیج کے قریب آکر رک گئی۔اور بالکل غیر متوقع طور پر حضور اپنے خدام سے خطاب فرمانے کے لئے سٹیج پر رونق افروز ہوئے۔قریباً آٹھ ماہ کے طویل اور صبر آزما عرصہ کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ حضور تقریر فرمانے کے سے حضور