تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 387
تاریخ احمدیت 387 جلد ۲۰ سپر د کر دے۔اور اس طرح ہر نسل اپنی اگلی نسل کو اس کی تاکید کرتی چلی جائے۔اسی طرح بیرونی جماعتوں میں جو جلسے ہوا کریں ان میں بھی مقامی جماعتیں خواہ خدام کی ہوں یا انصار کی یہی عہد دوہرایا کریں۔یہاں تک کہ دنیا میں احمدیت کا غلبہ ہو جائے اور دینِ حق ) اتنا ترقی کرے کہ دنیا کے چپہ چپہ پر پھیل جائے۔مجھے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے رویا میں دکھایا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا نور ایک سفید پانی کی شکل میں دنیا میں پھیلنا شروع ہوا ہے یہاں تک کہ پھیلتے پھیلتے وہ دنیا کے گوشے گوشے اور اس کے کونے کونے تک پہنچ گیا۔اس 66 وقت میں نے بڑے زور سے کہا کہ احمدیوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتے ہوئے ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان یہ نہیں کہے گا کہ اے میرے رب اے میرے رب تو نے مجھے کیوں پیاسا چھوڑ دیا بلکہ وہ یہ کہے گا کہ اے میرے رب ! اے میرے رب ! تو نے مجھے سیراب کر دیا یہاں تک کہ تیرے فیضان کا پانی میرے دل کے کناروں سے اچھل کر بہنے لگا۔پس اللہ تعالیٰ پر توکل رکھو اور ہمیشہ دین کے پھیلانے کے لئے قربانیاں کرتے چلے جاؤ۔مگر یاد رکھو کہ قومی ترقی میں سب سے بڑی روک یہ ہوتی ہے کہ بعض دفعہ افراد کے دلوں میں روپیہ کا لالچ پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ طوعی قربانیوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔تمہارا فرض ہے کہ تم ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھو وہ تمہاری غیب سے مدد کرے گا۔اور تمہاری مشکلات کو دور کر دے گا۔بلکہ تمہارے لئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ سامان بھی کیا ہوا ہے کہ اس نے ایک انجمن بنادی ہے جو تمام مبلغین کو با قاعدہ خرچ دیتی ہے۔مگر گزشتہ زمانوں میں جو مبلغین ہوا کرتے تھے ان کو کوئی تنخواہیں نہیں دیتا تھا۔بعض دفعہ ہندوستان میں ایران سے دو دوسو مبلغ آیا ہے مگر وہ سارے کے سارے اپنے اخراجات خود برداشت کرتے تھے اور کسی دوسرے سے ایک پیسہ بھی نہیں لیتے تھے۔پس اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت بجالا ؤ اور لالچ اور حرص کے جذبات سے بالاتر رہتے ہوئے ساری دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا بلند کرنے کی کوشش کرو۔