تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 363
تاریخ احمدیت 363 ہوسکتا۔پس خوش ہو کہ تمہاری روحانی کوششوں کے لئے میدان خالی اور موقعہ بہت وسیع ہے۔لہذا اس وقت کو غنیمت جانو اور سچے درویشوں اور گرو کے بھگتوں کی طرح اس خدمت خلق میں لگ جاؤ اور اپنے اخلاق اور اپنے کردار کو ایسا دلکش بناؤ کہ تمہیں دیکھ کر لوگوں کو گزشتہ زمانوں کے ولیوں اور رشیوں کے چہرے نظر آنے لگیں اور تمہیں مل کر لوگ روحانی سرور اور دلوں کا سکون حاصل کریں۔یہ بھی یاد رکھو کہ نہ صرف قرآنی تعلیم بلکہ ہندوستان میں گاندھی جی اور پاکستان میں قائد اعظم کی بار بار کی تلقین کے ماتحت ہم سب کے لئے یہ ایک پختہ اور زریں ہدایت ہے کہ جس ملک میں ہم رہیں اس کے نیچے وفادار بن کر رہیں۔ہماری جماعت کے مقدس بانی کو تو اپنی دینی خدمات میں اتنا انہماک اور استغراق تھا کہ انہوں نے بڑے جوش کے ساتھ فرمایا : - تاج و تخت بند قیصر کو مبارک ہو مدام ان کی شاہی میں میں پاتا ہوں رفاہِ روزگار مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوانِ یار ان اشعار میں گو اس زمانہ کے حالات کے مطابق صرف قیصر ہند کا نام لیا گیا ہے مگر جیسا کہ ان اشعار کی روح سے ظاہر ہوتا ہے مراد یہ ہے کہ جماعت احمد یہ ایک خالص دینی جماعت ہے جس کا اصل کام دین الہی کی خدمت اور مخلوق خدا کی سیوا سے تعلق رکھتا ہے۔لہذا ہر وہ حکومت جو ملک میں امن و انصاف قائم رکھتی اور پبلک کی فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف رہتی ہے وہ بلا استثناء ہمارے دلی تعاون اور تعریف کی حقدار ہے۔پس میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے ہندوستانی اور قادیانی بھائی اس اصول کو سامنے رکھ کر اپنے آپ کو خدا کے بچے بھگت ثابت کریں گے اور خصوصیت کے ساتھ کشمیر کی مخلصانہ روحانی خدمت کی طرف توجہ دیں گے۔کیونکہ اس خطہ ارض کا جسے دنیا کے لوگوں نے جنت ارضی کا نام دیا ہے ہم پر دہرا بلکہ تہراحق ہے۔پس آؤ کہ ہم دنیا کی طرف سے آنکھیں بند کر کے اپنی جلد ۲۰