تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 362 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 362

تاریخ احمدیت 362 کیا۔دوسرے اس مزار کا انکشاف بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہوا تھا۔تیسرے خدا نے اپنے فضل سے کشمیر اور جموں کو اس جہت سے بھی نوازا ہے کہ اس میں ہماری جماعت کی ایک بھاری تعداد پائی جاتی ہے جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض قدیم رفقاء خاص بھی گزرے ہیں۔پس اس مثلث روحانی رشتہ کی وجہ سے ہمارے دلوں میں کشمیر اور اہلِ کشمیر کی خاص محبت پائی جاتی ہے۔اور میں چاہتا ہوں کہ اب جب کہ بھارت کے احمدیوں کے لئے کشمیر کا رستہ کھل گیا ہے انہیں اپنے کشمیری بھائیوں کی روحانی اور دینی اصلاح و ترقی کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے وہ حضرت مسیح ناصری کے حواریوں اور حضرت مسیح محمدی کے مقدس رفقاء کی طرح ان کے اندر ایسی پاکیزگی کی روح پھونکیں کہ وہ خدا رسیدہ لوگوں کی طرح گویا روحانی مقناطیس بن جائیں تا کہ لوگ ہر طرف سے ان کی طرف بے اختیار کھچے چلے آئیں۔مگر یاد رکھو کہ ( دین حق ) اور احمدیت کی تعلیم کے مطابق ہمارا کام نہایت پر امن طریق پر ملکی قانون کے مطابق محبت اور نرمی اور آشتی اور صلح جوئی کے رنگ میں ہونا چاہئے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تجویز فرمائی تھی ضروری ہے کہ اپنی کوششوں کو ( دینِ حق ) اور احمدیت کی خوبیوں کے بیان کرنے تک محدود رکھا جائے اور کسی دوسرے مذہب یا فرقہ پر حملہ نہ کیا جائے۔قرآن مجید فرماتا ہے:۔ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة“ ”لا اكراه في الدين۔جلد ۲۰ د یعنی اپنے رب کے رستے کی طرف دلائل اور حکمت اور نصیحت کے رنگ میں بلاؤ۔دین کے معاملہ میں کسی قسم کا دباؤ نہیں ہونا چاہئے۔“ پس اپنے دینی بھائیوں کو میری یہی نصیحت ہے کہ چونکہ مذکورہ بالا وجود کی بناء پر کشمیر کا ملک ہمیں بہت پیارا ہے اس لئے اہل کشمیر اور ان کے ہم وطنوں کو چاہئے کہ اصلاح وارشاد کے کام میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں۔حسن اتفاق سے بھارت کی حکومت اس وقت خود اپنے بیان کے مطابق ایک لا دینی حکومت ہے۔اسے تمہاری پرامن دینی مساعی پر کوئی اعتراض نہیں