تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 354
تاریخ احمدیت کا حشر دیکھ رہی تھی۔354 جلد ۲۰ اور پھر ایک اور موضوع پر تبادلہ خیالات کے دوران کہنے لگے۔”آج تمام ہندو پاکستان میں آپ کی جماعت سے زیادہ مضبوط جماعت اور کوئی نہیں۔“ سبحان اللہ! یہ فقرہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی زبان سے نکلوایا تھا جس کی آمد کے موقعہ پر آریہ سکول قادیان کے میدان میں شاعر نے ایک پنجابی نظم پڑھی تھی جس کا ایک شعر یہ تھا جیہڑی عمارت کھڑی اے ریت اتے اونہوں کرن لئی مسمار ایہہ معمار آئے لیکن وہ بھول گئے تھے اس دن کو اور اب یاد آ رہا ہوگا اور احقر نے تو کہہ ہی دیا۔شاہ صاحب! تعمیر کا مقابلہ تخریب نہیں تعمیر ہے۔میں نے پھر عرض کیا۔شاہ صاحب! آپ آئندہ کے لئے اپنے رفقاء کار کو نصیحت فرما دیں کہ بع من نه کردم شما حذر بکنید کہنے لگے کیا مطلب؟ میں نے عرض کیا وہ جو تشدد کی تلقین ہوتی تھی۔سٹیج پر ہاتھ میں کلہاڑی لے کر Pose بنا کر کہا جاتا تھا " واقتلوهم حيث ثقفتموهم" فرمانے لگے کسی غیر ذمہ دار نے یہ کہا ہوگا۔عرض کی گئی کہ ایک فہرست شائع ہونی چاہئے تھی ذمہ داروں کی اور غیر ذمہ داروں کی۔یہ گفتگو ہورہی تھی کہ ایک عورت ایک چھوٹا سا بچہ اٹھائے آئی اور عرض کیا۔شاہ صاحب دم کر دیجئے بچہ بڑی اڑی“ کرتا ہے۔شاہ صاحب نے جواب دیا اڑی تو آج سارے ہی کرتے ہیں۔عورت نے پھر درخواست کی۔شاہ صاحب بڑی ضد کرتا ہے۔ماں کا دودھ نہیں پیتا۔شاہ صاحب نے کہا پھر تو کوئی بڑا افسر بنے گا۔پھر ہماری طرف مخاطب ہوئے اور یوں گویا ہوئے۔”دیکھو خود بیمار دیگران را علاج اور زیر لب کچھ پڑھا اور بچے کے جسم پر پھونک ماردی۔گفتگو کے سلسلہ کو جاری کرتے ہوئے میں نے عرض کی۔شاہ صاحب! یہ مکان آپ کا اپنا ہے؟ کہنے لگے نہیں بھائی کرایہ دیتا ہوں۔“ میں نے کہا شاہ صاحب ! کوئی مکان الاٹ کیوں نہیں کروایا۔کیا آپ کا کوئی کلیم نہیں ہے؟ ” ہے بھائی بہت سا ہے۔ہزاروں کا ہے۔محفوظ ہے۔روسی نوٹ کی طرح دیکھ لیتا ہوں۔“