تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 353 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 353

تاریخ احمدیت 353 جلد ۲۰ میں نے کہا مجھے ذرا د با دو۔چنانچہ اس نے خوب زور سے دبایا حتیٰ کہ مجھے پسینہ آ گیا۔میں نے اوپر کپڑا اوڑھ لیا۔اور سونے کی تیاری کرلی۔محمدعلی کو جگا دیا کہ اب وہ جائیں کافی رات ہوگئی ہے۔اللہ اللہ امیر شریعت کی زبان سے ان کا قدیم رفیق اور مرید با صفا یہ خبر سنے کہ انہیں فالج ہو گیا ہے اور دیوار سے ٹیک لگا کر سو جائے عقیدت کا کتنا شاندار مظاہرہ تھا۔اب میں نے بات کا رخ بدلنے کی کوشش کی اور عرض کیا شاہ صاحب! آپ نے ایک لمبا عرصہ جماعت احمدیہ کی مخالفت کی ہے۔۔۔ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ شاہ صاحب نے فوراً فقرہ کو قطع کیا اور فرمایا ”نہیں بھائی نہیں بھائی۔ایمان اور اعتقاد کا معاملہ تھا کسی کی مخالفت نہ تھی۔میں نے عرض کیا تو اب شاہ صاحب آپ کے تاثرات کیا ہیں؟ کہنے لگے تاثرات؟ ” بھائی تمہیں کام کرنا آتا ہے ہمیں کام کرنا نہیں آتا۔ایک ایسے شخص کے منہ سے یہ سن کر جس نے اپنی ساری طاقت احمدیت کو مٹانے کے لئے صرف کر دی تھی دل کی عجیب کیفیت تھی اور ذہن نے اس فقرہ کا تجزیہ کرنا شروع کر دیا۔کہ ایک مذہبی جماعت کے لیڈر کا اپنی ناکامی کے متعلق نتیجہ فکر یہ ہے کہ اسے کام کرنا نہیں آتا۔کیا اسے انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر میسر نہ تھا ؟ کیا اسے اچھے ذہین اور کام کرنے والے کارکن میسر نہ تھے؟ اور یہ اس نے کب محسوس کیا ؟ کیا اس کا دھیان کامیابی یا نا کامی کے وقت خدا تعالیٰ کی طرف منتقل نہ ہوا ؟ کیا اس نے اس بارگاہ ایزدی سے کبھی استمداد نہ کی تھی؟ کیا اس نے یہ مشاہدہ نہ کیا تھا کہ اس کے مقابل ایک حقیر سی جماعت کی ہر لمحہ غیب سے امداد ہوتی ہے؟ اور یہ فقرہ کہ ” بھائی تمہیں کام کرنا آتا ہمیں کام کرنا نہیں آتا شاہ صاحب نے دوبارہ دورانِ گے میں دہرایا۔66 گفتگو میں نے پھر دوسرا سوال کیا۔شاہ صاحب آپ کی کوئی تصنیف ؟ شاہ صاحب نے فرمایا ” بھائی آپ نے مجھے پہچانا ہی نہیں پہچانا تو تھا اسی لئے تو یہ سوال کیا تھا) میں نے کہا۔شاہ صاحب آپ کی تقاریر کو ہی محفوظ کیا ہوتا۔تقاریر کا کوئی مجموعہ ہی شائع ہوا ہوتا ؟ شاہ صاحب نے فوراً کہا ” بھائی آپ کی جماعت کے پاس الفضل میں ضرور محفوظ ہو گا۔“ میں نے عرض کی کہ شاہ صاحب! جب تک جماعت احمدیہ قائم ہے آپ کے ارشادات بھی محفوظ رہیں گے۔اور ہاں شاہ صاحب ۱۹۳۵ء اور ۱۹۳۶ء کی ان معرکتہ الآراء تقاریر میں آپ نے بعض پیشگوئیاں کی تھیں۔شاہ صاحب نے فرمایا ”نہیں نہیں بھائی میں نے کوئی پیشگوئی نہیں کی۔حالانکہ اگر آج شاہ صاحب خودان تقاریر کو پڑھیں تو تعجب فرمائیں کہ کیا واقعی میں نے ایسا کہا تھا۔کیونکہ جو کہا تھا آج ان کی آنکھ اس