تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 352
تاریخ احمدیت 352 جلد ۲۰ تھے۔اور آج دیکھا کہ فی الحقیقت یہاں شام غریباں کا نقشہ تھا۔ایک طرف میلی چٹائی، دوسری طرف ایک چار پائی، ایک کو نہ میں نلکا اور اس کے پاس میلی سی بالٹی۔چٹائی پر ایک میلا کچیلا گاؤ تکیہ۔ہم بھی چٹائی پر بیٹھ گئے۔شاہ صاحب کی اندرونِ خانہ سے آواز آرہی تھی کچھ دیر کے بعد شاہ صاحب تشریف لے آئے۔سلیک علیک کے بعد تعارف ہوا تو فرمانے لگے کل ملاقات ہو جو گئی تھی۔عرض کیا وہ تو سر را ہے تھی۔آپ سے کچھ باتیں کرنے کی خواہش تھی۔شاہ صاحب گویا ہوئے۔” مجھے کیا ملنا ہے بھائی۔مجھے کیا ملنا ہے۔اور یہ کہنے کے ساتھ ہی اپنی بیماری کا قصہ شروع کر دیا۔فلاں تاریخ تھی ، فلاں وقت تھا، مجھ پر اس طرح فالج کا حملہ ہوا۔“ اور یہ حصہ بھی خاصہ دلچسپ تھا۔خصوصاً اس کا وہ حصہ جب اسی دن محمد علی جالندھری آئے اور شاہ صاحب نے انہیں یہ المناک خبر سنائی کہ محمد علی مجھے فالج ہو گیا ہے۔یہ قصہ بھی شاہ صاحب کی زبانی سنئے۔شاہ صاحب فرمانے لگے۔عشاء کی نماز کے لئے میں وضو کرنے لگا۔ہاتھوں پر پانی ڈالا، ہاتھوں کو ملوں تو ہاتھ گرفت نہ کریں۔دائیں ہاتھ پر پانی ڈالا تو ہاتھ بیگا نہ بیگا نہ معلوم ہوا۔بائیں ہاتھ پر ڈالا تو کچھ اوپرا معلوم ہوا۔منہ میں کلی کے لئے پانی ڈالا تو منہ کے دونوں طرف سے پانی بہہ گیا کہ منہ کی بھی گرفت نہ تھی۔خیر میں نے وضو کیا، کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگا تو پاؤں لڑکھڑا گئے۔گرا ہی چاہتا تھا کہ سنبھلا اور پھر نماز پڑھنی شروع کی۔یہ مسئلہ ہی ذہن سے نکل گیا کہ بیٹھ کر بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔خیر نماز سے فارغ ہوا تو شدید بھوک محسوس کی۔دودن سے میں نے داڑھ کی درد کی وجہ سے کچھ کھایا نہ تھا۔اندرونِ خانہ گیا۔بیوی سے کہا بیوی! مجھے فالج ہو گیا ہے۔بیوی نے کہا ہا ئیں۔بیٹی سے کہا بیٹیا! مجھے فالج ہو گیا ہے۔بٹیا نے کہا ہا ئیں۔میں نے کہا کچھ کھانے کو ہے؟ گھر والوں نے کہا آپ چونکہ کئی دن سے کھانا نہ کھاتے تھے اس لئے ہم نے آپ کے لئے کھانا تیار نہیں کیا۔بیٹی نے کہا ہاں ابا کچھ ٹھنڈی کھچڑی ہے۔چنانچہ بیٹی تام چینی کی تھالی میں کھچڑی ڈال کر لے آئی۔میں نے کہا بٹیا کوئی سالن ہے؟ بیٹی نے کہا ابا شلجم کا ٹھنڈا سالن موجود ہے۔میں نے کہا لاؤ۔چنانچہ کھچڑی پر سالن ڈال کر منہ اوپر کر کے چمچہ سے اس میں کھچڑی ڈالنی شروع کی۔کیونکہ مونہہ گرفت نہ کرتا تھا۔اور اس طرح دو تھالیاں کھچڑی کی کھا کر اور ٹھنڈا پانی پی کر بیٹھک میں آگیا۔ابھی آکر بیٹھا ہی تھا کہ مولوی محمد علی صاحب جالندھری ایک دوست کے ہمراہ تشریف لائے۔میں نے کہا محمد علی مجھے فالج ہو گیا ہے۔مولوی صاحب نے کہا ہائیں ! اور پھر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔اور تھوڑی ہی دیر میں خراٹے لینے لگے۔دوسرے دوست کو