تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 346
تاریخ احمدیت 346 پھر سول ہسپتال نوشہرہ میں لے گئے مگر کچھ فائدہ نظر نہ آیا۔پھر میرے بیٹے لیفٹینٹ وزیر احمد خان اور ہمشیرہ زادہ میجر سیف علی خاں نے باہم مشورہ کر کے مجھے فوجی ہاسپٹل نوشہرہ میں پہنچایا مگر میری حالت پھر بھی نہ سنبھلی۔پھر میرے بیٹے نذیر احمد خان نے لیڈی ریڈنگ ہاسپٹل نوشہرہ کے سول سرجن کو ٹیلیفون کیا۔اس پر سول سرجن صاحب نے پہلے فوجی ڈاکٹر صاحب سے میرے حالات دریافت کئے۔ڈاکٹر صاحب نے انہیں بتایا کہ زخم میں پیپ پڑ گئی ہے اور زخم دل کے قریب ہے۔اس لئے کیس بڑا خطرناک ہے اور بچنے کی امید کم ہے۔تب سول سرجن صاحب نے عذر کر کے میرے کیس کو لینے سے انکار کر دیا۔اس کے بعد پسرم نذیر احمد خان نے فوجی ہسپتال پشاور کے ڈاکٹر میجر اکرم خان کو ٹیلیفون کیا۔( یہ ڈاکٹر صاحب پاکستان میں مانے ہوئے سپیشلسٹ سرجن ہیں) انہوں نے ٹیلیفون پر فرمایا کہ مریض کو فوراً میرے پاس پہنچا دو۔چنانچہ مجھے فوراً پشا ور فوجی ہاسپٹل میں پہنچا دیا گیا اور آفیسر وارڈ کے کمرہ نمبرا میں مجھے اتارا اور علاج شروع کیا۔چند دن گزرنے کے بعد ایک اور ڈاکٹر کرنل صاحب نے مجھ سے دریافت کیا کہ تمہارا کیا حال ہے اس پر میں نے ان سے یہ شکایت کی قیدیوں کی طرح میرے ہاتھ کو سخت باندھ کر مجھے تکلیف میں ڈالا گیا ہے۔اور چونکہ میرے ہاتھ کی رگیں تو کٹ چکی ہیں اس لئے براہ مہربانی میرے ہاتھ کو کاٹ کر الگ کر دیا جائے تاکہ میں اس تکلیف سے چھوٹ جاؤں۔میرے بار بار اصرار پر ڈاکٹر صاحبان نے ۱۵ راگست کی تاریخ میرا آپریشن کرنے کی مقرر کی۔جب مجھے اپریشن روم میں میز پر لٹایا گیا تو میرے دیگر عزیز و اقارب کے علاوہ پسرم نذیر احمد خان احمدی اور دامادم محمد اسلم خان احمدی بھی موجود تھے۔میجر ڈاکٹر محمد اکرم خان صاحب اور ایک اور میجر ڈاکٹر صاحب نے میرا تازہ معائنہ کیا تو اس وقت نبض اور دل کی حرکتیں بند تھیں اور بدن کا خون بھی رکا ہوا تھا تب انہوں نے ہر چند کوشش کی کہ کسی طرح نبض اور دل جلد ۲۰