تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 326
تاریخ احمدیت 326 باری صاحب سیف نے فرمائی۔کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جو جمیل الرحمان صاحب نے کی اس کے بعد قریشی محمد اسلم صاحب نے درشین سے خوش الحانی سے ایک نظم سنائی۔ہائی سکول کے طالب علم سیف الرحمان صاحب نے خلافت ثانیہ کے ابتداء میں رونما ہونے والے واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا۔اور یہ ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ ہر موقعہ پر مصلح موعود کی مدد و نصرت فرماتا رہا ہے۔جو آپ کی سچائی کی ایک دلیل ہے۔جمیل الرحمان صاحب نے حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ کی زندگی کے عنوان پر تقریر فرمائی۔آپ نے حضور کی حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں دینی امور کی طرف شغف کا تفصیل سے ذکر فرمایا اور اس ضمن میں رسالہ تشخید الاذہان کے اجراء اور اس کے مضامین کی اہمیت کے متعلق اکابر غیر مبایعین کی آراء کا بھی ذکر فرمایا۔مکرم جمیل صاحب کی تقریر کے بعد صدر صاحب نے رسالہ حید الاذہان کے مضامین کے بارے میں مولوی محمد حسین بٹالوی کی رائے کا بھی ذکر فرمایا۔سید داؤ د احمد صاحب انور نے "حضرت مصلح موعود حضرت خلیفہ المسح الاول کی نظر میں " کے عنوان پر تقریر فرمائی۔آپ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ حضرت خلیفۃ امسیح الاول ، حضرت مصلح موعود کا بہت احترام فرماتے تھے۔اس محبت اور احترام کی وجہ یہی تھی کہ آپ کو حضور کے مقام مصلح موعود کے متعلق کامل معرفت حاصل ہو چکی تھی۔آپ نے اس ضمن میں بہت سے حوالے بھی پیش کئے۔مرزا محمد سلیم صاحب نے مولوی ظفر محمد صاحب کی ایک نظم سنائی۔اس کے بعد مسعود احمد صاحب جہلمی نے تقریر فرمائی۔آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے عہد زریں کے خاص خاص واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا۔اس کے بعد مکرم مولوی غلام باری صاحب سیف نے حضرت مصلح موعود کی صفت ”وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا“ کے متعلق بعض ایمان افروز واقعات سنائے۔جلد ۲۰