تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 325
تاریخ احمدیت 325 کرتے ہوئے اس کی اصل حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس بات کو کبھی نہ بھولیں کہ مصلح موعود کا ظہور مسیح موعود کی بعثت کا تنتمہ ہے اور اس کے کام کی تکمیل کے لئے مقدر ہے۔اس کے زمانہ میں اس کو نیل نے ایک درخت بننا ہے جس کا بیج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک ہاتھوں سے بویا گیا اور پھر اس درخت نے دنیا میں پھیلنا اور پھولنا اور پھلنا ہے۔اندریں حالات ہمارا فرض ہے کہ ہم اس درخت کی آبپاشی اور ترقی میں انتہائی کوشش اور انتہائی قربانی سے کام لیں تاکہ ( دینِ حق ) کے عالمگیر غلبہ کا دن قریب سے قریب تر آجائے اور ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام چار اکناف عالم میں گونجے اور ہمارے سردار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ مسلمانوں کا قدم پھر ایک اونچے مینار پر قائم ہو جائے جیسا کہ حضرت مسیح موعود کے ساتھ خدا کا وعدہ ہے کہ : - بخرام که وقت تو نزدیک رسید وپائے محمدیاں بر منار بلند تر محکم افتاد خدا کرے کہ وہ دن جلد آئے کہ جب محمد رسول اللہ صلعم کی مقدس روح خدا کے حضور یہ مژدہ پیش کر سکے کہ تیرے ایک بندے اور میرے ایک نائب کے ذریعہ ( دینِ حق کا جھنڈا دنیا میں سب سے اونچا لہرا رہا ہے۔واخر دعونا ان الحمد لله رب العالمين۔خاکسار مرزا بشیر احمد ۲۰/۲/۵۹ ربوه جلد ۲۰ اس عظیم الشان جلسہ کی رپورٹ جناب محمد شفیق صاحب قیصر کے قلم سے درج ذیل الفاظ میں شائع ہوئی :- مورخہ ۲۰ فروری یوم مصلح موعود کی بابرکت تقریب پر بیت الذکر نور تعلیم الاسلام ہائی سکول میں مجلس علمی جامعہ احمدیہ کے زیر اہتمام بعد نماز مغرب ربوہ کے تعلیمی اداروں کا مشترکہ جلسہ ہوا جس میں ہائی سکول اور جامعہ احمدیہ کے طلباء نے تقاریر کیں۔جلسہ کی صدارت مکرم مولوی غلام