تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 324
تاریخ احمدیت 324 کے نزول کے متعلق فرمائی ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں یہ پیشگوئی فرمائی ہے کہ آخری زمانہ میں ( دینِ حق ) کی تجدید اور مسلمانوں کے احیاء ثانی کے لئے ایک مثیل مسیح نازل ہوگا اور اس کے ذریعہ خدا ( دین حق ) کو پھر دوبارہ غالب کرے گا اور یہ غلبہ دائمی ہوگا وہاں آپ نے اس پیشگوئی کے اندر شامل کر کے اور گویا اسی کا حصہ بنا کر یہ الفاظ بھی فرمائے ہیں کہ :- يتزوج و يولد له د یعنی مسیح موعود شادی کرے گا اور اس کے اولاد پیدا ہوگی۔“ پس آپ کا مسیح موعود کے نزول والی پیشگوئی کے اندر شامل کر کے اور اس کا حصہ بنا کر ان الفاظ کا فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک مصلح موعود والی پیشگوئی مسیح موعود والی پیشگوئی کی فرع ہے نہ کہ ایک جدا گانہ منفرد پیشگوئی۔اور اس سے مراد یہ تھی کہ جب مسیح موعود آئے گا تو اس کے ہاتھ سے ( دینِ حق ) کے دوسرے احیاء کا بیج بویا جائے گا اور جیسا کہ قرآن مجید میں مذکور ہے یہ بیج اس کے زمانہ میں ایک خوبصورت کونپل کی شکل میں پھوٹے گا اور اپنی زم زم جمالی پتیاں نکالے گا جو مسیح موعود کے ساتھ کام کرنے والے زُرّاع یعنی کسانوں کے دلوں کو لبھائیں گی مگر دشمن اس کے اٹھتے ہوئے جو بن کو دیکھ دیکھ کر دانت پیسیں گے مگر اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکیں گے اور پھر مسیح موعود کے بعد (یعنی دور اوچوں شود بکام تمام ) اس کونپل کو ایک تناور درخت کی صورت میں ترقی دینے اور پروان چڑھانے کے لئے مصلح موعود ظاہر ہو کر جلال الہی کے ظہور کا موجب بنے گا اور اس کے وقت میں اس درخت کی شاخیں تمام دنیا میں پھیل جائیں گی اور قو میں اس سے برکت پائیں گی مگر مصلح موعود کی یہ جلالی شان مسیح موعود کی جمالی شان کی فرع ہوگی نہ کہ خدائی جلال کا کوئی مستقل اور جدا گانہ جلوہ۔کیونکہ ( دین حق ) کا یہ دور اپنی اصل کے لحاظ سے صفت احمدیت کا دور ہے جو ایک جمالی صفت ہے۔پس ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ مصلح موعود والی پیشگوئی پر غور جلد ۲۰