تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 317
تاریخ احمدیت 317 جلد ۲۰ آپ دنیا میں اپنے کارناموں سے تاریخ کا رخ موڑ سکتے ہیں۔اس ضمن میں حضور نے طلبہ کو قرون اعلیٰ کے مسلمانوں کے کارناموں کو پڑھنے اور ان کی قائم کردہ روایات کو آگے بڑھانے کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ تاج محل تو ایک عمارت ہے دنیا کے کونے کونے سے لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں۔اگر آپ ان لائنوں پر کام کر کے آئندہ زندگی کی بنیاد ڈالیں گے تو آپ کے ذریعہ عقل و شعور اور عمل و کردار کی جو عمارت تعمیر ہوگی وہ تاج محل سے بہت زیادہ بلند و بالا اور رفیع الشان ہوگی جس اشتیاق سے لوگ تاج محل کو دیکھنے جاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ جوش اور اخلاص کے ساتھ وہ آپ کے پاس آئیں گے۔اور بہت زیادہ تعداد میں آئیں گے۔اصل چیز یہ ہے کہ آپ لوگ ( دین حق ) کے بتائے ہوئے طریق پر عمل کریں۔آپ ( دینِ حق ) سیکھیں خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کریں اور پھر اس کے عطا کردہ علم کی مدد سے دنیا کے بنیں۔اگر اللہ تعالیٰ سے انسان کا تعلق قائم ہو جائے تو پھر اللہ تعالیٰ انسان کو وہ علم عطا کرتا ہے جس کے آگے دنیوی ذرائع سے حاصل ہونے والا علم کوئی حیثیت نہیں رکھتا جس کو خدا تعالیٰ علم کی دولت سے مالا مال کر دے وہ مرجع خلائق بن جاتا ہے اور دنیا اس کی طرف کھینچی چلی آتی ہے اس ضمن میں حضور نے تحدیث نعمت کے طور پر اپنے بعض واقعات بیان کئے۔اور بتایا کہ علم کا حقیقی سرچشمہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے حضور نے فرمایا :۔پس میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگ ( دینِ حق ) سیکھیں خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کریں اور دنیا کے استاد بنیں۔حضرت مصلح موعود کی ملاقات کے بعد متعدد کالجوں کے ان طلباء کے اعزاز میں نظارت اصلاح و ارشاد نے ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں انہیں انڈونیشیا، عدن، مغربی جرمنی نیز مشرقی و مغربی افریقہ کے ان تمام طلبہ سے متعارف ہونے کا سنہری موقعہ میسر آیا جو ان دنوں ربوہ میں علم دین حاصل کر رہے تھے اس موقعہ پر خالد احمدیت مولانا شمس صاحب نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس زمانہ میں غلبہ دین حق کے ذرائع کیا ہیں۔