تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 316 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 316

تاریخ احمدیت 316 پیدا ہونے پر تیرے کان میں یہ آواز ڈالی گئی تھی یقینا ان الفاظ پر غور کرنے اور ان کے مفہوم کو سمجھنے کی طرف اسے رغبت پیدا ہوگی اور اس طرح وہ ان باتوں کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنانے کی طرف مائل ہوتا چلا جائے گا۔الغرض بچپن اور پھر طالب علمی کا زمانہ اس لحاظ سے انتہائی اہم ہوتا ہے کہ اس میں آئندہ زندگی کی بنیا د رکھی جاتی ہے۔سلسلۂ خطاب جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں جب کبھی کسی عمارت کی بنیاد رکھی جاتی ہے تو اس وقت با قاعدہ ایک تقریب منعقد کر کے بڑے بڑے لوگوں کو بلایا جاتا ہے اور بڑی خوشی منائی جاتی ہے۔یہ سب اہتمام ظاہر کرتا ہے کہ لوگ ایک عمارت کی بنیاد کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ آپ اپنے اس زمانہ طالبعلمی میں جس عمارت کی بنیاد رکھ رہے ہیں اس کی اہمیت کتنی زیادہ ہے؟ آپ جو بنیاد رکھ رہے ہیں وہ عقل و شعور اور زندگی اور عمل کی بنیاد ہے۔اس کے آگے اس بنیاد کی جومٹی اور چونے سے اٹھائی جاتی ہے کوئی حیثیت نہیں۔عقل و شعور اور زندگی و عمل کی بنیاد اینٹ پتھر اور چونے کی بنیاد سے بہت زیادہ اعزاز واکرام کی مستحق ہے اور اس کے لئے خاص اہتمام اور فکر ضروری ہے۔پس آپ اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھیں بلکہ اپنی اور اس وقت کی قدر و قیمت کو پہچانیں اگر آپ آئندہ زندگی کی بنیاد کو صحیح لائنوں پر استوار کریں گے اور پھر اسے مضبوط سے مضبوط کرتے چلے جائیں گے تو پھر یاد یہ بنیاد ایک طرف زمین کے پاتال تک اور دوسری طرف آسمان کی غیر محدود بلند یوں تک جاسکتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:- ضرب الله مثلا كلمة طيبة كشجرة طيبة اصلها ثابت وفرعها في السماء تؤتي أكلها كل حين باذن ربها (ابراہیم: ۲۶،۲۵) ط یعنی نیک بات کی مثال اچھے درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں تو زمین میں گڑی ہوئی ہیں لیکن اس کی شاخیں آسمان میں ہیں۔اور ہر وقت اپنے رب کے حکم سے تازہ بتازہ پھل دیتا رہتا ہے۔پس اگر آپ چاہیں تو آپ کی شاخیں آسمان میں جا کر فرشتوں سے باتیں کرسکتی ہیں اور اسی طرح جلد ۲۰