تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 300 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 300

تاریخ احمدیت 300 جلد ۲۰ ۳۲ صدق جدید لکھنو ا ا / جولائی ۱۹۵۸ ، صفحہ ۳ (باقی صفحہ ۱۴ اپر ) ۳۳ - الفضل ۲۱ ستمبر ۱۹۵۸ء صفحه ۳ ( ترجمه ) ۳۴- ایضاً صفحہ نمبر ۴،۳ - ۳۵ مشیر قانونی صدرانجمن احمد یہ پاکستان ۳۶- ابن حضرت ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب روز نامه الفضل ربوه ۲۸ راگست ۱۹۵۸ء صفحه ۴ ، ۵ -۳۷ ۳۸ روز نامه الفضل ۲ /اگست ۱۹۵۸ء صفحه ۸ ۳۹ - الفضل ۴ جولائی ۱۹۲۴ء صفحہ ۴ کالم نمبر ا عنوان یاد ایام“ - ۴۱ - مضمون خلیفه صلاح الدین صاحب الفضل ۱۳ را اگست ۱۹۵۸ء صفحه ۳) مضمون صاحبزادہ مرزا رفیق احمد صاحب (الفضل ۷ را گست ۱۹۵۸ء صفحه ۴، ۵) مضمون بیگم صاحبہ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب الفضل ۳۰ راگست ۱۹۵۸ء صفحه ۴،۳) نوٹ: محترمہ اہلیہ صاحبہ محمد عیسی بھا گلوری مرحوم ناظم آباد کرچی نمبر ۱۸ ( الفضل ۱۹ اگست ۱۹۵۸ء صفحه ۵) مضمون اہلیہ محترمه حضرت مولوی رحمت علی صاحب مجاہد انڈو نیشیا ( الفضل ۱۳ ستمبر ۱۹۵۸، صفحه ۴ ) الفضل ۷ اگست ۱۹۵۸ ، صفحه ۳ ۴۲ - الفضل ۱۳ را گست ۱۹۵۸ء صفحه ۳ ۴۳ - الحکم ۲۰، ۲۷ را گست ۱۸۹۸ء صفحه ۱۴۔تذکره طبع چہارم صفحه ۳۱۲ ناشر الشرکۃ الاسلامیہ ربوہ ۱۹۷۷ء -۴۴ یہ حضرت کعب ابن مالک کا واقعہ ہے۔خط غسان کے نصرانی بادشاہ کا تھا ( بخاری ) (کتاب المغازی حدیث کعب بن مالک ) -۲۵ غزوہ نجد سے واپسی پر یہ واقعہ پیش آیا تھا ( مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفحه ۴۷۱) روز نامه الفضل ربوه ۲۷ اگست ۱۹۵۸ء صفحه ۵،۴،۳ - - ۴۶ ۴۷ روز نامه الفضل ربوه ۱۰ار ستمبر ۱۹۵۸ء صفحه ۳ - - ۴۸ "THE CONTRIBUTION TO THE SOLUTION OF WORLD PROBLEMS" مطبوعہ جے ہند پر لیس نہرو گارڈن روڈ جالندھر شہر ۴۹ - الفضل ۱۴ ستمبر ۱۹۵۸ء صفحه ۳،۲ ۵۰- قدیم ریکارڈ کے مطابق یہ عمارت تقریباً سو سال قبل ۱۸۸۶ء میں ایک پادری کرنیل بیلی کی بیوہ کیچ (CATAGE) عرف میم صاحبہ کی ملکیت تھی جو اس نے ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۹ء کو سردار دیو سنگھ صاحب ساکن صدر بازار راولپنڈی ( ٹھیکیدار چھاؤنی راولپنڈی) کو چودہ سو روپیہ میں بیچ دی۔سردار صاحب کے دو بیٹے تھے رائے بہادر ہری سنگھ صاحب آنریری مجسٹریٹ اور رائے بہادر سردار جے سنگھ صاحب رئیس اعظم را ولپنڈی مؤخر الذکر تمام جائیداد کا مختار عام تھے جنہوں نے اپنے بھتیجے اقبال سنگھ صاحب ولد ہری سنگھ صاحب) کی طرف سے یہ پراپرٹی راولپنڈی کے ایک مسلمان ٹھیکیدار میاں محمد شفیع صاحب ولد میاں خدا بخش صاحب مغل کے پاس ۱۰ جنوری ۱۹۴۴ء میں پندرہ ہزار لے کر فروخت کر دی۔یہ عمارت ہری سنگھ صاحب کی ملکیت کے زمانہ سے ہی جماعت احمد یہ راولپنڈی کے پاس کرایہ پر تھی اور اسے بطور بیت الذکر استعمال کیا جاتا تھا۔۲۰ /جون ۱۹۴۵ء کو صد را انجمن احمدیہ نے یہ عمارت اٹھارہ ہزار روپیہ میں ٹھیکیدار مذکور سے میاں محمد یوسف صاحب سپلائی آفیسر راولپنڈی کے ذریعہ خرید لی۔چنانچہ قیام پاکستان کے بعد جب بعض احمدی کشمیر اور مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے روالپنڈی پناہ گزیں ہوئے تو یہاں نمازیں پڑھی جاتی تھیں اور جمعہ اور جلسے وغیرہ کی تقاریب منعقد ہوتی تھیں۔( امارت ضلع راولپنڈی کی فراہم کردہ معلومات کا خلاصہ ) ۱۹۵۳ء کی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ (اردو ) تفصیل " تاریخ احمدیت جلد نمبر ۱۶ میں آچکی ہے۔10- ۵۲ ۳۶۵ بی واقع کالج روڈ راولپنڈی ۵۳ تابعین اصحاب احمد جلد ہشتم صفحه ۱۶۳،۷۲