تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 272
تاریخ احمدیت 272 جلد ۲۰ ہے۔یہ جماعت۔۔۔۔بنی نوع انسان کو کسی گری ہوئی حالت سے اٹھانے اور دنیا میں حقیقی امن کے قیام اور اس کی راہ ہموار کرنے کی دعویدار ہے۔یورپ میں سے انگلستان ، ہالینڈ، جرمنی ، سپین، سویڈن اور سوئٹزر لینڈ میں اس جماعت کے با قاعدہ تبلیغی مراکز قائم ہیں۔جیسا کہ سوئٹزر لینڈ کے سرکاری گزٹ کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے فرقہ احمدیہ نے اپنے آپ کو اور زیادہ منظم کر لیا ہے۔یہ اس بات کی علامت کرلیا ہے کہ آج سے چند سال قبل اس نے سوئٹزرلینڈ میں تبلیغ اسلام کی جس مہم کا آغاز کیا تھا یہ اسے اور زیادہ وسیع کرنا چاہتی ہے اس کی کوشش یہ ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے اپنے میدان کو اور زیادہ زرخیز بنائے تا اچھی فصل حاصل کر سکے۔چونکہ جماعت کی مجلس عاملہ میں خود سوئٹزرلینڈ کے بعض باشندوں کے نام بھی شامل ہیں لہذا یہ باور کرنا چنداں مشکل نہیں ہے کہ ان کی تبلیغی مساعی بارآور ثابت ہورہی ہیں۔اس مسلم جماعت کی موجودگی اس ضرورت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہم عالمی مذاہب کے اندر رونما ہونے والی تحریکات سے اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ باخبر رکھیں اور ان کی طرف خاص توجہ دیں۔چونکہ یہ اسلامی تحریک کتابوں رسالوں اور ٹریکٹوں کی اشاعت کے ذریعہ اثر و نفوذ حاصل کرنا چاہتی ہے اس لئے ہمارے مذہبی لوگوں کا یہ فرض ہے کہ وہ طلبہ کو مذہبی بحث و مباحثہ کی زیادہ سے زیادہ تربیت دیں۔( ترجمہ و تلخیص ) شیخ ناصر احمد صاحب نے اس سال زیورک، بازل، برن اور بون میں کامیاب دیئے۔نیز حاضرین کے سوالوں کے جوابات دیئے۔آپ کی ایک تقریر ینگ مین کرسچن ایسوسی ایشن میں اسلام میں مسیح کے مقام پر ہوئی اسی طرح دینیات کے ایک کالج سے آپ نے دو مرتبہ خطاب کیا۔آپ نے ۱۹۵۸ء میں جن اہم موضوعات پر روشنی ڈالی ان میں سے بعض یہ تھے :- ( دین حق ) آجکل ، ( دینِ حق ) کا اثر مغربی تمدن پر ، ( دین حق ) یورپ میں، ( دین حق ) اور مغرب، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔سوئٹزرلینڈ مشن کے ترجمان رسالہ ”اسلام“ کے علمی اثرات کا حلقہ اس سال سے پہلے