تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 268
تاریخ احمدیت مذہبی رواداری پر بہت زور دیا۔268 جلد ۲۰ CATERHEM کی روٹری کلب میں بھی امام صاحب نے تقریر کی۔SCOTCH روٹیرین نے تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عجیب بات ہے کہ ہم بھی مذہبی رواداری کا چرچا کرتے ہیں مگر جہاں مسلمان حضرت مسیح ناصری کو خدا کا سچا نبی مانتے ہیں اور ہر قبیلہ اور قوم میں خدا کے مامورین کے قائل ہیں وہاں عیسائیت کی تعلیم کے مطابق ہم حضرت محمد کو خدا کا سچا نبی نہیں مانتے۔آپ نے اسلامک سوسائٹی برسٹل کے زیر اہتمام برسٹل یونیورسٹی اور برسٹل کے ایک چرچ میں بھی معلومات افروز لیکچر دیئے جن کو اسلامک سوسائٹی کے سیکرٹری ایم آفریدی نے اس کو بہت سراہا اور اپنے ایک مراسلہ میں امام صاحب کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کی دونوں تقریر میں سامعین نے بہت پسند کیں اور میرا خیال ہے وہ روشن خیالات کو ابھارنے والی اور نہایت سادہ اور احسن طریق پر کی گئی تھیں۔دوسرے دن ہوسٹل روٹری کلب کے صدر مسٹر سیش ورڈ (SISHE WIRDE) نے مجھ سے ذکر کیا کہ جو کچھ آپ نے ” ( دین حق ) ایک عام فہم مذہب ہے“ کے تحت بیان کیا وہ اس سے بہت ہی متاثر ہوئے دوسرے معزز حاضرین کے بھی یہی احساسات ہیں جن میں ہمارے صدر ڈاکٹر سید یوسف بھی شامل ہیں۔مسٹر ڈگلس جیمز (DOUGLAS JAMES) جنہوں نے BEDMINSTER میں آپ کی تقاریر کا انتظام کیا تھا مجھے آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لئے کہا ہے انہوں نے کہا ہے کہ آپ نے ان کو اور ان کے دوسرے نوجوان دوستوں کو ( دینِ حق ) اور عیسائیت کے متعلق بہت خیالات قائم کرنے کا موقع دیا ہے۔آپ کو دوبارہ ملنے کا متمنی اور آپ کے بہترین حالات کا دعا گو۔آپ کا مسلم بھائی۔ایم آفریدی امام بیت فضل لنڈن نے پٹنی ہائی سکول کی ۳۰ طالبات میں اسلامی تعلیم پر مؤثر لیکچر دیا۔جس پر سکول کی ہیڈ مسٹرس نے ایک خط میں لکھا کہ لڑکیوں نے آپ کے خطاب کو بہت دلچسپی۔سنا اور بہت متاثر ہوئیں۔ہم آپ کی تشریف آوری کو اور ہمیں خطاب کرنے کے لئے وقت نکالنے کو بہت پسندیدگی سے دیکھتے ہیں۔خیر اندیش K-HOLLIDAY (ہیڈ مسٹر لیں)۔ایک طالبہ نے یہ لکھا کہ جناب عالی۔میں آپ کی خصوصا مشکور ہوں اور آپ کی تقریر پر مسرت کا اظہار کرتی ہوں ہمیں اسلام کے مختصر سے مطالعہ میں کئی ایک مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔میں خود قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہوئے شادی اور طلاق کے نظریات پڑھتے وقت بہت