تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 11 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 11

تاریخ احمدیت 11 گے تیسرا مرکز ضلع مظفر گڑھ میں بنے گا۔وہاں کے ایک نوجوان نے لکھا ہے کہ میرا ایک مربع ہے جو مجھے فوجی خدمات کے صلہ میں ملا ہے وہ مربعہ میں آپ کی اس سکیم میں دیتا ہوں مگر کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کو اس طرح ساری زمین سے محروم کر دیں میں نے یہ تجویز سوچی ہے کہ ہم ان سے کہیں کہ اس زمین سے دس ایکڑ ہمیں کرایہ پر دے دے اور باقی پندرہ ایکڑ وہ خود استعمال کرے۔اور دس ایکڑ کوئی معمولی زمین نہیں۔ہالینڈ میں میں نے دریافت کیا تھا وہاں تین ہزار فی ایکڑ آمد ہوتی ہے اگر تین ہزار فی ایکڑ آمد ہو تو دس ایکڑ سے تہیں ہزار آمد ہو سکتی ہے اگر سو مربعہ ہمیں اس سکیم میں مل جائے تو ۷۵ لاکھ سالانہ آمد ہو جاتی ہے۔اور اس سے ہم سارے مشنوں کا خرچ چلا سکتے ہیں۔طریق ہم بتا ئیں گے کام کرنا ہمارے مبلغوں کا کام ہے اگر ان کو خدا تعالیٰ ( دین حق ) کی خدمت کا جوش دے اور وہ شیخ سعدی کے بیان کردہ واقعہ کو یاد رکھیں تو یہ سکیم بہت اچھی طرح چلائی جاسکتی ہے۔کیونکہ جن لوگوں میں کام کرنے کی روح پائی جاتی ہو وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم حقیر اور ذلیل ہیں وہ صرف یہ بات جانتے ہیں کہ آں نہ من باشم که روز جنگ بینی پشت من آں منم کاندر میانِ خاک و خوں بینی سرے میں وہ نہیں ہوں کہ جس کی پیٹھ تو جنگ میں دیکھے بلکہ تو میرے سر کو میدان میں خاک و خون میں لتھڑا ہوا پائے گا ہماری جنگ تلوار کی جنگ نہیں بلکہ دلائل کی جنگ ہے اور دلائل کی جنگ میں جس شخص میں کام کرنے کی روح پائی جاتی ہو وہ یہی کہتا ہے کہ میں وہ نہیں جو دلائل کے میدان میں اپنی پیٹھ دکھاؤں بلکہ اگر مقابلہ کی صورت پیدا ہوئی تو میں سب کے آگے ہوں گا اور جب تک میری جان نہ چلی جائے میں قربانی کا عہد نہیں چھوڑوں گا۔اگر اس طرز پر عمل کیا جائے ، تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ سکیم بہت شاندار طور پر کامیاب ہوگی۔ابھی تو میری جلسہ سالانہ کی تقریر پر صرف چودہ دن گزرے ہیں لیکن اب آ کر لوگوں کو میری تحریک کا احساس ہوا ہے اور انہوں نے اپنے نام لکھوانے شروع کئے ہیں اسی طریق پر ہر تحریک بڑھتی ہے جب میں نے جلد ۲۰