تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 256 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 256

تاریخ احمدیت 256 کر سکتا۔اور مجھ میں تنگ نظری نہیں پائی جاتی۔میں ایک ناچیز مسلمان ہوں جو اپنی مادر وطن یعنی ہندوستان کے ساتھ عقیدتمندی کے جذبات رکھتا ہوں۔اور اسلام کی رواداری اور وسیع النظری کی جو تشریح احمد یہ جماعت کے بانی اور آپ کے دونوں خلفاء نے فرمائی ہے اس سے بہت متاثر ہوں۔خاص طور پر ”جہاؤ کی جو وضاحت روحانی جد و جہد اور قلم اور زبان سے تبلیغی کوششوں کے معنوں میں انہوں نے فرمائی ہے اس نے مجھے بے حد متاثر کیا ہے۔۔قرآن شریف نے بجا طور پر فرمایا ہے :- قل يا ايها الناس قدجاء كم الحق من ربكم ، فمن اهتدى فانما يهتدى لنفسه ومن ضل فانما يضل عليها وما انا عليكم بوكيل ۱۶۷ یعنی کہہ دے کہ اے لوگو! تمہارے پاس خدا کی طرف سے حق آ گیا ہے پس جو ہدایت پاتا ہے اس کا فائدہ اس کو ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے اس کا نقصان اُسے ہے اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔اور ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتي هي احسن NA یعنی اپنے رب کے رستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت سے بلاؤ ا اور اچھے طریق سے بات کرو۔دوسرے الفاظ میں تلوار کا جہاد اس زمانہ میں (دین حق ) کی نفی ہے۔کیونکہ لا اکراہ فی الدین یعنی دین میں جبر نہیں۔۱۶۹ میری خواہش ہے کہ ہندوستان کے احمدی جہاد کے صحیح مفہوم کو جو اسلامی تعلیمات کے رو سے ہے زیادہ سے زیادہ اشاعت کریں۔میں یہ مشورہ بھی دینا چاہتا ہوں کہ ایک پمفلٹ جہاد کے صحیح مفہوم کے متعلق انگریزی میں شائع کر کے مفت تقسیم کیا جائے۔آپ ہندوستان اور ( دینِ حق ) کی ایک بہت بڑی خدمت کریں گے۔اگر انگریزی، اردو، ہندی اور پنجابی میں ان تمام تقاریر اور مضامین کو جو جلد ۲۰