تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 255
تاریخ احمدیت 255 جلد ۲۰ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصرا حمد صاحب، بہلول پور میں ایک یادگار تقریب خاندان حضرت مسیح موعود کے بعض دیگر بزرگ اور بعض ناظر صاحبان ۲۳ فروری ۱۹۵۸ء کو ضلع لائکپور (فیصل آباد ) کی مشہور بستی بہلول پور میں تشریف لے گئے جہاں حضرت صاحبزادہ صاحب اور مولانا ابوالعطاء صاحب خالد احمدیت نے بالترتیب اتحاد و خدمت اور سیرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک موضوع پر جامع خطاب فرمایا۔اس بابرکت تقریب پر حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں چندہ کی وہ رقم پیش کی گئی جو چوہدری عصمت اللہ صاحب پریذیڈنٹ بہلول پور کے فرزند چوہدری صلاح الدین احمد صاحب (ناظم جائیداد صدرانجمن احمد یہ پاکستان) نے تعلیم الاسلام کالج کی تعمیر وتکمیل کے سلسلہ میں بہلول پور، سانگلہ ہل ، چک چھور۱۷ امغلیاں، چک نمبر ۱۲۶ ر-ب، چک نمبر ۱۴۷ ر- ب اور لائل پور کے مخلصین جماعت سے جمع کی تھی۔۱۶۶ اس سال پروفیسر عبدالمجید صاحب سابق سفیر سعودی عرب کا ایک اہم مکتوب ایم اے سابق سفیر سعودی عرب کی طرف سے صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ناظر دعوت و تبلیغ قادیان کو حسب ذیل اہم مکتوب موصول ہوا۔د و ۴۴ کلارک ہوٹل شملہ ۱۷/۳/۸۵ پیارے مرزا وسیم احمد صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ہوں خط کی رسیدگی کی اطلاع دیر سے دینے پر مہربانی کر کے معاف فرما دیں۔جیسا کہ آپ کو علم ہے میں باقاعدہ بیعت شدہ احمدی نہیں لیکن میرا نظریہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب بانی جماعت احمدیہ کے متعلق ہمیشہ احترام اور قدردانی کا رہا ہے اور ۱۹۲۸ء سے میرے تعلقات موجودہ امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے بھی ہیں۔علا وہ ازیں میرے بہت سے قریبی رشتہ دار پچیس سال سے زائد عرصہ سے احمدی ہیں۔ذاتی طور پر میں عام معروف طریق پر مذہبی آدمی نہیں ہوں کیونکہ میں اپنے اوپر پرانی روایات اور رسومات اور عقائد کی پابندیاں عائد نہیں