تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 254 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 254

تاریخ احمدیت وہ بہت محظوظ ہوئے۔254 جلد ۲۰ ۲۴ جنوری ۱۹۵۸ء کو جامعہ نصرت ربوہ کا الحاق سیکنڈری بورڈ جامعہ نصرت کا الحاق آف ایجوکیشن سے منظور ہوا۔مولانا ابوالکلام آزاد کی رحلت پر حضرت مسیح موعود کے رفیق مولانا ابوالنصر آہ کے برادر اصغر، بھارت کے ممتاز و محبوب سیاسی ۱۶۱ جماعت احمدیہ کی طرف سے تعزیت راہ نما اور مرکزی و زیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد ۲۲ فروری ۱۹۵۸ء کو انتقال فرما گئے۔اس موقع پر اخبار ”بدر‘ قادیان نے اپنے تعزیتی اداریہ میں ان کی سیاسی اور علمی وادبی خدمات کو زبر دست خراج تحسین ادا کیا۔اور ناظر صاحب امور عامہ قادیان نے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو وزیر اعظم بھارت اور مولانا حفظ الرحمن صاحب سہاروی جنرل سیکرٹری جمعیت العلماء کی خدمت میں حسب ذیل تعزیتی تار بھجوایا : - ” جماعت احمد یہ قادیان کو جناب مولانا آزاد کی نہایت افسوسناک وفات پر بہت صدمہ ہوا ہے۔آپ کا ذاتی طور پر اور قومی طور پر نا قابل تلافی نقصان ہوا ہے۔احمد یہ جماعت کی طرف سے دلی ہمدردی کا پیغام قبول فرمائیں اور مولانا مرحوم کے لواحقین کو بھی یہ پیغام تعزیت پہنچا دیں۔“ " ناظر امور عامہ سلسلہ احمدیہ قادیان) ۱۶۳ علاوہ ازیں ناظر امور خارجه صدرانجمن احمد یہ پاکستان کی طرف سے مولانا مرحوم ۱۶۴ کے پرائیویٹ سیکرٹری جناب اجمل خاں صاحب کے نام حسب ذیل پیغام تعزیت بذریعہ تار ارسال کیا گیا : - مولانا ابوالکلام آزاد کی افسوسناک وفات پر جماعت احمد یہ دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ہمدردی اور تعزیت کے یہ جذبات ان کے خاندان تک پہنچا کر ممنون فرمائیں۔اللہ تعالیٰ ان کی روح پر ۱۶۵ سکینت نازل کرے۔مولانا آزاد کی نماز جنازہ مولانا سعید احمد صاحب نے پڑھائی۔پانچ لاکھ افراد نے شرکت کی اور آپ مولانا شوکت علی مرحوم کی آخری آرام گاہ کے قریب پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دئیے گئے۔