تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 247 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 247

تاریخ احمدیت 247 جلد ۲۰ خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے آپ کی وفات کی خبر سن کر حسب ذیل نوٹ الفضل کے لئے سپر و قلم فرمایا : - مرحوم و مغفور نہایت مخلص نیک صالح پر جوش اور مخیر احمدی تھے۔سلسلہ کی مالی تحریکات میں فیاضانہ رنگ میں حصہ لیتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ جب الشركة الاسلامیہ کے حصص فروخت کرنے کے سلسلہ میں کمپنی کا نمائندہ ان سے ملا تو آپ اس کے ساتھ ہو لئے اور بعض احمدی دوستوں کو خریداری حصص کی تحریک کی۔جب دیکھا کہ کامیابی نہیں ہوتی تو انہوں نے خود ہی دو سو حصص خرید کر لئے۔سلسلہ احمدیہ اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بصرہ العزیز سے آپ کو والہانہ محبت تھی۔آپ نے ۱۹۵۵ء میں چھاؤنی کوئٹہ میں ایک کوٹھی تعمیر کی اور اس کے بنانے سے آپ کی اولین خواہش یہ تھی کہ جب حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کوئٹہ تشریف لے جائیں تو آپ اس میں قیام فرمایا کریں۔۱۹۵۶ء میں جب یہ کوٹھی تیار ہو چکی تو انہوں نے حضور کی خدمت میں کوئٹہ تشریف لے جانے کے لئے عرض کیا۔جب انہیں معلوم ہوا کہ حضور کوئٹہ تشریف لے جانے کا ارادہ نہیں رکھتے تو انہوں نے مجھے لکھا کہ حضور تو اس دفعہ تشریف لانے کا ارادہ نہیں رکھتے اس لئے ہماری خوش قسمتی ہوگی کہ اگر آپ جیسے حضور کے خادم ہمارے پاس کوٹھی میں آکر قیام کریں اور مجھے طبی مشورہ کے ماتحت پہاڑ پر جانا تھا۔چنانچہ میں نے ان کے پاس ایک ماہ تک اس کوٹھی میں قیام کیا۔نہایت متواضع ، خاکسار، مہمان نواز ، سادگی کے دلدادہ لیکن اظہار حق کے وقت تیغ براں تھے۔ان کی نیکی اور سلسلہ سے والہانہ محبت کا اثر ان کی اولا د شیخ محمد شریف صاحب اور شیخ محمد اقبال صاحب اور شیخ محمد حنیف صاحب میں بھی پایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو مرحوم و مغفور کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور انہیں اور مرحوم کے دیگر متعلقین کو صبر جمیل بخشے اور مرحوم و مغفور کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ع اے خدا بر تربت او ابر رحمتها ببار