تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 246 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 246

تاریخ احمدیت 246 جلد ۲۰ آپ کے عزیزوں میں سے کسی نے ایک مربی سلسلہ کا نام لیا آپ کو شبہ ہوا کہ عدم احترام کے جذبہ سے ایسا کہا ہے فوراً ٹو کا اور فرمایا حضرت کہہ کر پکارو جب تم عزت کے الفاظ کے بغیر ان کا نام لیتے ہو تو مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے۔الغرض اپنے عزیزوں کو بھی مبلغین سلسلہ اور جماعت کے کارکنوں اور خادموں سے محبت رکھنے کی تلقین فرماتے۔آپ کی طبیعت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود اور خاندان حضرت مسیح موعود کے سب افراد سے خاص لگاؤ اور محبت ودیعت فرما دی تھی جو گویا ایک چشمہ کی طرح ہر وقت موجزن رہتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ ان کی خدمت و تواضع میں انہیں غایت درجہ مسرت و راحت محسوس ہوتی۔اور جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے حضرت مصلح موعودؓ کے قیام کوئٹہ کے ایام میں تو اور آپ کے خاندان کے تمام افراد نے فدائیت کا عدیم النظیر نمونہ پیش کیا اور انتہائی کوشش کی کہ حضور کو ہر طرح آرام حاصل ہو اور حضور کی دعاؤں سے زیادہ سے زیادہ حصہ لیں اس مقصد کے لئے بڑی سے بڑی قربانی بھی آپ کے لئے ایک ادفی بات تھی۔حضرت شیخ صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قائم فرمودہ یادگاروں اور اداروں سے دلی انس تھا۔جب کبھی آپ مع اہل و عیال ربوہ تشریف لاتے تو حضرت شیخ محمد الدین صاحب مختار عام کے ہاں قیام فرماتے مگر ہمیشہ ہی اس بات کی کوشش کرتے کہ پہلے لنگر خانہ سے کھانا کھایا جائے آپ بڑی محبت اور خلوص کے جذبہ سے حضرت مسیح موعود کے لنگر خانہ کا تبرک استعمال کرتے اور اس کے بعد گھر کا کھانا کھاتے۔آپ عرصہ تک جماعت کو ئٹہ کے نائب امیر کے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے بجا لاتے رہے۔آپ کی نیکی اور تقویٰ کا اپنوں پر ہی نہیں غیر از جماعت حلقوں پر بھی وسیع اور گہرا اثر تھا۔کوئٹہ کے بہت سے معززین نے آپ کی وفات پر رنج والم کے قلبی جذبات کے ساتھ تعزیت کی۔آپ کے مختصر حالات زندگی آپ کے فرزند شیخ محمد شریف صاحب کے قلم سے الفضل ۲۹/۲۸ رستمبر ۱۹۵۸ء میں شائع شدہ ہیں جو قابل دید ہیں بلاشبہ حضرت شیخ صاحب احمدیت کا چلتا پھرتا نمونہ اور سلسلہ احمدیہ کے پاک نفس، فدائی اور شیدائی بزرگ تھے۔حضرت مصلح موعود کے عاشق صادق اور جماعتی نظام کے احترام میں اپنی مثال آپ تھے۔انکسار، خدمت خلق اور مہمان نوازی آپ کے رگ وریشہ میں رچی ہوتی تھی۔لیکن کلمہ حق کہنے میں کمال درجہ نڈر جری اور بہادر تھے۔سلسلہ احمدیہ کے مالی جہاد میں فراخدلی سے حصہ لیتے تھے۔آپ کا نام تحریک جدید کی پانچبزاری کی فہرست کے صفحہ ۴۴۱ پر درج ہے۔۱۳۶