تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 245 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 245

تاریخ احمدیت 245 جلد ۲۰ بھی آپ کے سپرد کر دیتے تھے۔آپ ملازمت کے سلسلہ میں کندیاں ( ضلع میانوالی) میں تھے کہ آپ کو تجارت کا شوق ہوا چنانچہ آپ ریلوے کی ملازمت ترک کر کے پہلے ڈیرہ اسماعیل خاں اور پھر مستقل طور پر ۱۹۲۲ء میں کوئٹہ میں تشریف لے آئے جہاں کئی قسم کے کاروبار شروع کر دئیے۔احمدیت کی مخلصانہ خدمت اور اپنے آقا و پیشوا حضرت مصلح موعودؓ سے فدائیت نے خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کیا اور آپ کے کاروبار میں بہت برکت بخشی۔تقسیم ملک کے وقت آپ نے کپڑے کا بھی ایک کارخانہ شروع کیا۔قائد اعظم ایک بار موسم گرما میں کوئٹہ کے قریب قیام فرما ہوئے تو تجارت میں ماہرانہ قابلیت اور حب الوطنی کے مخلصانہ جذبات کی بدولت قائد اعظم سے آپ کو خاص تعارف حاصل ہوا۔محترمہ فاطمہ جناح بھی آپ کی گفتار اور طریق کار سے بہت متاثر ہوئیں۔وہ آپ کے ذریعہ قائد اعظم کے بعض نجی کام کرائیں اور آپ کی تاجرانہ مساعی پر بہت خوش ہوتیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے اس پاک وعدہ کے مطابق کہ وہ مسیح موعود کے بچے محبین ومخلصین کے اموال ونفوس میں بہت برکت بخشے گا آپ کو بہت مال عطا فرمایا مگر آپ نے اسے ( دینِ حق ) اور سلسلہ کی خاطر قربان کرنے کو اپنی سب سے بڑی سعادت سمجھا۔سلسلہ کی تمام مرکزی مقامی بلکہ فردی تحریکات میں بھی نہایت فراخدلی، بشاشت قلبی اور گرمجوشی سے حصہ لیتے تھے اور یہی عاشقانہ روح آپ نے اپنے پاک نمونہ سے اپنے سب افراد بیت خصوصاً صاحبزادگان میں پھونک ڈالی۔حضرت شیخ صاحب پر جوش داعی الی اللہ تھے۔جب کبھی سیدنا حضرت مصلح موعود قیام پاکستان کے بعد کوئٹہ میں تشریف لائے آپ اور آپ کے صاحبزادگان خاص اہتمام سے معززین کوئٹہ کو حضور کی ملاقات کے لئے لاتے تھے اور جب تک حضور کا قیام رہتا آپ مع افرادِ بیت اپنے آقا کی خدمت کے لئے مجنونانہ وار وقف ہو جاتے تھے۔سلسلہ کے کارکنوں خصوصاً مبلغین سلسلہ کا خاص احترام کرتے اور ان کی خدمت و تواضح میں بہت خوشی محسوس کرتے تھے۔مولانا شیخ مبارک احمد صاحب رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ ایک مبلغ نے حضرت شیخ صاحب کو خط لکھا اور اس کے آخر میں اپنے نام سے پہلے محتاج دعا کے الفاظ بھی لکھ دیئے ان الفاظ کو پڑھ کر آپ پر رقت طاری ہو گئی اور رورو کر آنکھیں سرخ کر لیں کہ سلسلہ کے خادم اور فدائی کارکن جو اپنے محبوب و مقدس امام کی دعاؤں سے ہردم حصہ لے رہے ہیں وہ انہیں بھی دعا کی تحریک کر رہے ہیں۔آپ مبلغین کے لئے الحاح سے دعا کرتے اور اس کا اظہار بھی فرماتے کہ یہ سب احمدیت کی برکت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل ہے۔ایک دفعہ