تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 244 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 244

تاریخ احمدیت 244 جلد ۲۰ دفعہ مخالفوں کے انبوہ کثیر نے گھیرے میں لا کر سخت مجبور کیا کہ حضرت مرزا صاحب کو گالی دو۔لیکن آپ نے کہا وہ زبان کہاں سے لاؤں جو اپنے آقا کو گالی دے۔اس پر مخالفین نے آپ کو سخت اور نا قابل برداشت تکلیفیں دیں۔حتی کہ آپ بے ہوش ہو گئے۔قرب و جوار میں کوئی احمدی بھی نہ تھا۔آخر شیخ عظیم الدین صاحب سوداگر نے جو رادھن کے اسٹیشن پر کاروبار کرتے تھے خبر ہونے پر آپ کو وہاں بلا لیا۔وہاں سے پھر جماعت باڈہ ( سندھ ) ضلع لاڑکا نہ بھیج دیا۔کچھ عرصہ ہوا آپ منشی محکم الدین صاحب احمدی کے پاس مقیم رہے۔اب آپ عرصہ اٹھارہ ماہ سے مستری فیض محمد صاحب کی استدعا پر جماعت کمال ڈیرہ میں مقیم تھے اور بچوں کو تعلیم دیتے تھے۔مرحوم نے محض احمدیت کی خاطر اپنے عزیزوں کو چھوڑ کر خالصہ انقطاع الی اللہ کی صورت اختیار کر لی تھی۔پیرانہ سالی میں قبولِ احمدیت ، اس پر یہ استقلال اور استقامت اور اخلاص کا ایسا اعلیٰ نمونہ چھوڑا جو ہم سب کے لئے قابل تقلید نمونہ ہے۔مرحوم تہجد گزار، رمضان شریف میں اکثر اعتکاف بیٹھا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے نشان کے طور پر اکثر بیان فرماتے تھے کہ جس پیر نے مجھے مخالفت کے جوش میں ایذا ئیں دیں اللہ تعالیٰ نے اس کو عبرتناک سزا دی۔وہ ذلت سے مار کھا کر گاؤں سے نکالا گیا۔اس کے مکان کو آگ لگ گئی وہ ایسا ذلیل ہوا کہ اس علاقہ میں دوبارہ منہ نہیں دکھا سکتا۔فرماتے کہ میں تو پھر بھی جب کبھی گاؤں جاتا لوگ عزت سے ملتے اور پیش آتے۔لیکن اس پیر کو گاؤں میں دوبارہ آنے کی توفیق میسر نہیں ہوئی۔۱۳۳ ۷۔حضرت شیخ کریم بخش صاحب آف کوئٹہ ( وفات ۱۶ ستمبر ۱۹۵۸ء) آپ کا اصل وطن پنڈ دادنخان ضلع جہلم تھا۔۱۹-۱۹۱۸ء کے قریب داخل احمدیت ہوئے۔ابتداء میں آپ ریلوے میں بطور سٹور کیپر ملازم رہے اور اس طرح دینداری اور ایماندری سے اپنے فرائض انجام دیئے کہ ریلوے کے اعلیٰ افسر تک آپ کے ساتھ بہت عزت و احترام سے پیش آتے اور آپ کی نیکی ، پرہیز گاری اور دیانتداری کے باعث بہت سے ذاتی اور نجی کام