تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 243 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 243

تاریخ احمدیت 243 ان جلسوں میں والد صاحب مرحوم ( دینِ حق ) کی تعلیم پر تقریر کرتے رہے جس کو ان تمام صدر صاحبان نے سراہا۔چنانچہ والد صاحب مرحوم و مغفور کی تقریر کی پسندیدگی کا نتیجہ تھا کہ ہری کشن مہتاب سابق گورنر بمبئی اور چیف منسٹر اڑیسہ نے قرآن کریم کا اڑیہ زبان میں ترجمہ حکومت کے خرچ پر کروانے کا وعدہ فرمایا۔صوبہ اڑیسہ میں احمدیت کے آنے کے بعد سے اب تک اڑیہ کی علاقائی زبان میں ( دین حق کی طرف سے بولنے والا وجود والد صاحب مرحوم جیسا کوئی نہیں ہوا آپ نے ہر سوسائٹی میں ( دینِ حق ) کو پیش کیا اور جملہ اعتراضات کا ایسے رنگ میں جواب دیتے رہے جس سے سامعین اور سوال کنندہ کی تسلی ہو جاتی۔الغرض والد صاحب مرحوم کو تبلیغ کا جنون تھا۔۔کا جس کے سبب سفر و حضر بیماری و تندرستی ہر حالت میں پیغام احمدیت پہنچاتے رہے۔۔- مولوی محمد جعفر صاحب سولنگی سونا منڈی تحصیل کنڈیار وضلع نواب شاہ ( وفات ۱۸/۱۷ / اگست ۱۹۵۸ء) جلد ۲۰ جناب حکیم محمد موہیل صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ کمال ڈیرہ سندھ آپ کے حالات قبول احمدیت اور خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :- ۱۹۴۵ء میں ایک قصبہ تھا روشاہ میں جانے کا اتفاق ہوا۔وہاں ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب موگا کے ایک عزیز حکیم محمد یعقوب صاحب سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے دوران تبلیغ کچھ ٹریکٹ اور کتب سلسلہ برائے مطالعہ دیں۔جن کی وجہ سے اس سال جلسہ سالانہ پر جانے کی سعادت نصیب ہوئی۔اور حضرت اقدس خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت کا شرف حاصل ہوا۔جلسہ سے واپسی پر گاؤں آکر کھلم کھلا تبلیغ شروع کر دی۔قبول حق کے جرم کی پاداش میں عرصہ حیات ہر طرح سے تنگ کر دیا گیا۔ظلم و تشدد کا دور شروع ہو گیا۔مولوی بلائے گئے۔احمدیت سے تائب ہونے پر مجبور کیا جانے لگا۔تذلیل و رسوائی کے ہر قسم کے ذرائع عمل میں لائے گئے۔ایک