تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 242
تاریخ احمدیت 242 جلد ۲۰ ایک نمایاں تبدیلی اور زبردست جوش اور امنگ پیدا ہوگئی۔خدمتِ دین کا جذبہ انہیں کلکتہ سے کٹک لے آیا جہاں ایک پریس میں ملازم ہو گئے مگر جلدی ہی جماعت احمدیہ کیرنگ کی درخواست پر مستقل ملا زمت چھوڑ دی اور دین کو دنیا پر مقدم کرتے ہوئے مدرسہ احمدیہ میں مدرسی کے فرائض انجام دینے لگے اور اپنی قابلیت ، محنت اور توجہ و دلجمعی سے اسے بہت ترقی دی۔تقریباً ایک صد طلبہ نے مدرسہ میں تعلیم پائی جن میں سے ایک نے قادیان دارالامان سے مولوی فاضل بھی کیا۔آپ کے فرزند سید غلام مہدی صاحب ناصر تحریر فرماتے ہیں کہ :- اس زمانہ میں جبکہ مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام ہوا تھا۔والد صاحب مرحوم نے جماعت احمدیہ کیرنگ کے نوجوانوں کو منظم کر کے ان کی ایک مجلس قائم کی تھی جس کا نام خادمانِ احمدیت اور چھوٹے لڑکوں کی مجلس کا نام جاں شارانِ احمد یت رکھ کر ان کو احمدیت کی تعلیم اور تبلیغی ٹریننگ دینی شروع کر دی۔ان نوجوانوں کو ہفتہ عشرہ کے لئے اپنے ساتھ لے کر اطراف میں پیغام احمدیت پہنچاتے رہے۔جب سیدنا حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی تحریک پر مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام ہوا تو اس وقت والد صاحب مرحوم نے جماعت احمدیہ کیرنگ کے نوجوانوں کو جو پہلے مجلس خادمانِ احمدیت میں تنظیم کے ساتھ کام کرنے والے بن گئے تھے حضور ایدہ اللہ کے ارشاد پر کام کرنے والے بن گئے تھے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی روشنی میں انہیں اور آگے قدم بڑھانے کی تلقین کی اور ہمیشہ پانچ چھ خدام کا وفد بنا کر دس پندرہ میل کے اندر شمال و جنوب مشرق و مغرب کی طرف اپنے ساتھ لے کر تبلیغ کے لئے جاتے رہے۔ان کے اس حسنِ انتظام اور خدا تعالیٰ کا فضل شاملِ حال ہونے کے سبب اس وقت حضرت خلیفۃ اصسیح الثانی کے دست مبارک سے سب سے پہلا انعامی جھنڈا خدام الاحمدیہ کیرنگ نے حاصل کیا۔والد صاحب مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے اڑیہ زبان میں تقریر کا خاص ملکہ عطا کیا ہوا تھا۔طرز بیان کچھ ایسا دلکش اور نرالا تھا جو گورنر ، وزراء اور راجاؤں تک کو متاثر کئے بغیر نہ رہتا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے یوم سیرت النبی کا جلسہ کٹک شہر میں ہوا کرتا تھا۔جس کی صدارت پٹنہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور گورنر چیف منسٹر اوتکل یو نیورسٹی کے وائس چانسلر نے کی۔