تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 241 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 241

تاریخ احمدیت 241 جلد ۲۰ ۲ - احمد جواہر صاحب روز بل ( ماریشس ) جماعت احمد یہ ماریشس کے ایک سرگرم رکن ، سیکرٹری مال اور بہت پر جوش داعی الی اللہ تھے۔حضرت مصلح موعودؓ کے ساتھ غیر معمولی عقیدت تھی اور آپ کے خلاف کوئی بات نہ سن سکتے تھے۔اور مبلغین سلسلہ کے ساتھ دل و جان سے تعاون ان کا شعار تھا۔۱۲۹ ۳ - اخوند عبدالقادر صاحب ( وفات ۱۷ را پریل ۱۹۵۸ء ) پروفیسر نصیر احمد خاں صاحب ایم ایس سی پر و فیسر تعلیم الاسلام کا لج کا بیان ہے کہ اخوند صاحب مرحوم بہاولپور کالج میں لیکچرار تھے۔لیکن بوجہ احمدی ہونے کے ملازمت سے سبکدوش ہونا پڑا۔پھر عرصہ تک بیکار رہنے کے بعد پہلے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے ہیڈ ماسٹر مقرر کئے گئے پھر تعلیم الاسلام کالج کے انگریزی کے پروفیسر بنے۔اپنے فرائض کی ادائیگی میں با قاعدگی اور پابندی وقت کو خاص طور پر ملحوظ رکھتے تھے۔اردو اور انگریزی کے کامیاب مقرر و فاضل تھے اور کہا کرتے تھے کہ میں جب تقریر کے لئے کھڑا ہوتا ہوں تو سینکڑوں الفاظ دست بستہ میرے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں اور بزبانِ حال پکارتے ہیں کہ ہم خدمت کے لئے حاضر ہیں۔۴ - منشی سبحان علی صاحب کا تب الفضل (وفات ۱۲ ر ا پریل ۱۹۵۸ء) آپ ۱۹۲۲ء میں داخل احمدیت ہوئے اور باوجود یکہ آپ کو احمدیت سے منحرف کرنے کی انتہائی کوششیں ہوئیں مگر آپ کوہ وقار بن کر ایمان پر قائم رہے۔ابتداء میں احمد یہ مڈل سکول گھٹیالیاں اور سار چور میں ٹیچر کے فرائض انجام دیئے پھر محمود سیٹلمنٹ میں کام کرتے رہے اسی دوران آپ نے خوشنویسی کی مشق کی اور ادارہ الفضل سے منسلک ہوکر ایک لمبے عرصہ تک اس مرکزی اور قومی اخبار کی خدمت میں پورے شوق و ذوق سے سرگرم عمل رہے۔۵- سید صمصام علی صاحب سونگھڑ وی بھدرک ( وفات ۲۹ مئی ۱۹۵۸ء) آپ ۱۹۱۰ء میں اپنے بڑے بھائی سید ممتاز علی صاحب کی کوشش سے احمدی ہوئے ان دنوں آپ کلکتہ انگریزی پریس کے کمپوزیٹر تھے۔داخل احمدیت ہونے کے بعد آپ میں یکا یک