تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 224 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 224

تاریخ احمدیت فصل ششم 224 دوسرے مخلصین جماعت کا ذکر خیر ۱- محمد مغل صاحب ( عرف مغلا ) ساکن کوٹ محمد یار چنیوٹ ضلع جھنگ ( وفات ۱۸ مارچ ۱۹۵۸ء ) ۱۲۴ جلد ۲۰ آپ کے چھ بھائی تھے اور سبھی چور تھے لیکن آپ کو چوری سے فطرتاً نفرت تھی اور آپ گریہ و بکا کرتے کہ اے میرے ہادی مجھے راہ مستقیم پر چلا اور ان کاموں سے نجات دے۔کچھ عرصہ بعد سمیع و بصیر خدا نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو کسی ذریعہ سے احمدیت کا پیغام پہنچا۔آپ والدین اور بھائیوں سے چوری چھپے راتوں رات چک جھمر تک پیدل پہنچے۔کرایہ پاس نہ تھا گاڑی میں بیٹھ کر بھوکے پیاسے لاہور تک آئے۔یہاں پہنچ کر آپ کی پٹائی ہوئی مگر کہا میں نے قادیان ضرور جانا ہے۔آخر کئی دن کے بعد پیدل قادیان پہنچے۔چند روز کے بعد حضرت خلیفہ ایچ الاول کے دستِ مبارک پر بیعت کر لی اور واپس اپنے گاؤں آ گئے۔ماں باپ اور بھائیوں کو پتہ لگا تو انہوں نے مارا پیٹا مگر آپ حق و صداقت کی چٹان بن گئے اور سچائی کا ایسا نمونہ قائم کر دیا جو ہمیشہ مشعل راہ کا کام دے گا۔چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : - جھنگ کا ہی ایک واقعہ ہے یہاں ایک دوست احمدی ہوئے جن کا نام مغلا تھا ان کے تمام رشتہ دار ان کے سخت مخالف ہو گئے۔اس علاقہ کے لوگ چوری کو ایک فن سمجھتے ہیں۔اور پھر اس پر فخر کرتے ہیں۔چنانچہ جتنا بڑا کوئی چور ہو گا اتنا ہی وہ چوروں میں معزز ہوگا۔مثلاً کہا جائے گا فلاں آدمی بڑا معزز ہے اس لئے کہ فلاں موقع پر اس نے اتنی بھینسیں نکال لیں یا فلاں آدمی بہت معزز ہے کہ اس نے اتنی گائیں نکال لیں اور پھر چوروں میں اس حد تک نظام قائم ہوتا ہے کہ ہر علاقہ میں جو چند ضلعوں یا چند تحصیلوں پر مشتمل ہوتا ہے علاقہ کے سب چور اس کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔اور مال