تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 191
تاریخ احمدیت فصل پنجم 191 جلد ۲۰ جلیل القدر رفقائے مسیح موعود کا انتقال ۱۹۵۸ء میں کئی ممتاز رفقائے مسیح موعود رحلت فرما گئے جن کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا۔حضرت شیخ محمد حسین صاحب پنشنر قانونگو آف دھرم کوٹ رندھاوا ضلع گورداسپور ولادت ۱۸۸۲ء۔بیعت جنوری ۱۹۰۷ ء۔وفات ۱۸ / مارچ ۱۹۵۸ء) حضرت شیخ محمد حسین صاحب کے آباء و اجداد علاقہ باجوڑ کے افغان قبیلہ ککے زئی ۸۱ سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کے مورث اعلیٰ (پردادا ) شیخ جھنڈے خاں صاحب سکھوں کے عہدِ حکومت ۸۲ وو میں تحصیلدار قصبہ دھرم کوٹ رندھاوا تھے۔شیخ علی احمد خاں صاحب وکیل چیف کورٹ پنجاب رئیس ضلع گورداسپور جو پنجاب کی مرکزی ککے زئی ایسوسی ایشن کے بانی ارکان میں سے تھے اور جنہیں ۱۸۷۷ء میں مقدمہ رلیا رام کے دوران اور بعدازاں اکثر مقدمات میں سیدنا حضرت مسیح موعود کے وکیل ہونے کا شرف حاصل ہوا ، آپ کے چچازاد بھائی تھے۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے شیخ علی احمد خاں صاحب کی وفات ( ۱۸ / جولائی ۱۹۱۱ ء ) پر لکھا ' شیخ صاحب مرحوم مسلمانانِ پنجاب کے ایک مسلم لیڈر اور ضلع گورداسپور میں ان کی ملکی اور قومی ضروریات کے لئے اکیلے وکیل اور رہنما شیخ صاحب ہر چند ہمارے سلسلہ میں داخل نہ تھے مگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے ہمیشہ سے موڈت اور محبت کے وفادارانہ تعلقات رکھتے تھے اور حضرت کے اکثر مقدمات میں وہی کام کیا کرتے تھے۔مقدمات کے اس طوفانِ بیتمیزی میں جو اس سلسلہ کے خلاف اٹھایا گیا تھا شیخ صاحب کو بڑے بڑے آدمیوں نے فریق مخالف سے شامل ہونے کو اکسایا مگر ان کی حمیت اور غیور طبیعت نے اس کو وفاداری کے خلاف سمجھا۔مدرسہ تعلیم الاسلام کے ساتھ انہیں خاص ہمدردی تھی اور اپنے صاحبزادہ بشیر احمد خان کی تعلیم کے لئے اسی مدرسہ کو پسند کیا۔انہوں نے مختلف موقعوں پر ہمدردی اور محبت کا ثبوت دیا۔ایڈیٹر الحکم کو ان سے ذاتی نیاز حاصل تھا اور وہ بعض مشورہ طلب امور میں جو مسلمانوں کی بھلائی اور خیر سگالی کے متعلق ہوتے اس سے تھے۔