تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 167 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 167

تاریخ احمدیت 167 جلد ۲۰ چیز جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کے سامنے پیش کی وہ زندہ رسول کا وجود ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ سب انبیاء فوت ہوئے مگر ہمارے سید و مولا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے۔آپ زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے یوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی بشر ہی تھے اور کوئی بشر اپنے جسدِ عنصری کے ساتھ ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتا۔پس اس کا مطلب یہ ہے کہ کے وجود کی فیض رساں تاثیرات نہ پہلے کبھی ختم ہوئی ہیں اور نہ آئندہ کبھی ہوں گی۔ان کا سلسلہ قیامت تک چلتا چلا جائے گا۔اور ان فیض رساں تاثیرات کی بدولت آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔سو گویا آپ زندہ ہی نہیں بلکہ دوسروں کو زندہ کرنے والے وجود ہیں۔آپ کے ذریعے ہر زمانے میں روحانی مردوں کو زندگی ملتی چلی جائے گی اسی طرح تیسری چیز جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش کی وہ یہ ہے کہ قرآن مجید ایک زندہ کتاب ہے۔آپ نے بتایا چونکہ یہ آخری شریعت ہے اور قیامت تک کبھی منسوخ نہ ہوگی اس لئے اس کی فیض رسانی کا سلسلہ جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا۔اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے مسلمانوں کے ذریعہ دنیا میں جو عظیم الشان انقلاب بر پا ہوا تھا وہ انقلاب اسی شان کے ساتھ نہ صرف یہ کہ اب بھی رونما ہوسکتا ہے بلکہ خدائی تقدیر کے ماتحت وہ ایک دفعہ پھر رونما ہو کر رہے گا۔اور یہ دنیا ایک دفعہ پھر امن و آشتی کا گہوارہ بنے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے قبل حالت یہ تھی کہ قرآن مجید کے ایک زندہ کتاب ہونے کا تصور نا پید ہوتا جا رہا تھا اور یہ صرف جھاڑ پھونک کے لئے ہی رہ گیا تھا۔اس پر مزید یہ کہ بدقسمتی سے یہ سمجھا جانے لگا تھا کہ قرآن مجید کی بہت سی آیات منسوخ ہو چکی ہیں۔یہ ایک خطرناک خیال تھا جس نے دماغوں میں گھر کر لیا تھا اور اس کے نتیجے میں ( دین حق ) کی ابدی شریعت عملاً متروک ہوتی جا رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس خیال کی پر زور تردید فرمائی اور اعلان کیا کہ جس طرح ( دین حق ) کا خدا زندہ خدا ہے ( دینِ حق ) کا رسول زندہ ہے اسی طرح ( دینِ حق ) کی کتاب بھی زندہ ہے۔اس کے ذریعہ خدا نے نور اور ہدایت کا جو چشمہ جاری فرمایا ہے وہ کبھی خشک نہ ہوگا اور روحانی لحاظ سے خشک اور بنجر زمینوں کو سیراب کر کے انہیں لہلہاتے ہوئے کھیتوں میں تبدیل کرتا چلا جائے گا۔پھر چوتھی چیز جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش فرمائی وہ آخرت پر زندہ ایمان کی اہمیت ہے۔آپ نے ثابت فرمایا کہ (دین حق ) دنیا میں جو انقلاب بر پا کرنا چاہتا ہے اس میں قیامت پر زندہ ایمان کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔اس کے بغیر حقیقی روحانی انقلاب برپا ہو ہی نہیں سکتا۔یہ چیز ( دین حق کے نزدیک زندگی کی بنیادوں میں سے ایک اہم بنیاد ہے۔مزید