تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 161
تاریخ احمدیت 161 اس نے بتایا کہ بیعت کا لکھنے والا گورنر ہی تھا۔مگر وہ تو اب شہید ہو گیا ہے اب اس کی جگہ ایک نائب گورنر نے بیعت کر لی ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس علاقہ میں بھی ترقی ہوئی ہے۔اگر خدا تعالیٰ چاہے تو امریکہ اور فلپائن وغیرہ علاقوں میں جماعت کو اور بھی ترقی ہو جائے گی اور اس طرح ڈالر کی آسانی ہو جائے گی۔امریکہ میں تبلیغ کا یہ اثر بھی ہے کہ دوسرے کئی ملکوں میں بھی ہماری تبلیغ کا اچھا اثر پڑ رہا ہے۔چنانچہ مولوی نور الحق صاحب انور جو حال ہی میں امریکہ سے آئے ہیں انہوں نے بتایا کہ مصر کا جو وائس قونصل تھا اس کے جبڑے میں درد تھی اس نے آپ کو دعا کے لئے خط لکھا لیکن اس کو آپ کا جواب نہیں پہنچا میں نے دفتر والوں کو خط نکالنے کے لئے کہا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں وہ خط نہیں ملا۔لیکن اب پرسوں یا اتر سوں اس کا دوسرا خط آیا ہے اس نے لکھا ہے کہ غالباً میرا پہلا خط نہیں پہنچا اب میں دوسرا خط لکھ رہا ہوں۔میرے جبڑے میں درد ہے آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ صحت دے۔انصار اللہ کے جلسے کے بعد مولوی نور الحق صاحب انور ملے تو انہوں نے بتایا کہ اب اس کے جبڑے کو آرام آچکا ہے بلکہ میرے یہاں آنے سے بھی اسے آرام آچکا ہے اس لئے یہ خط پہلے کا لکھ ہوا معلوم ہوتا ہے ) انور صاحب نے یہ بھی بتایا کہ وہ کرنل ناصر کا بچپن کا دوست ہے۔اور اس پر بہت اثر رکھتا ہے۔یہ امریکہ میں تبلیغ کا ہی اثر ہے ہم امریکہ میں تبلیغ کرتے ہیں تو مصری اور شامی بھی متاثر ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہی جماعت ہے جو ( دینِ حق ) کی خدمت کر رہی ہے۔اور اس طرح قدرتی طور پر انہیں ہماری جماعت کے ساتھ ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔پہلی شامی حکومت کی سختیوں کی وجہ سے ہمارے مبلغ منیر احصنی صاحب کا خط آیا تھا کہ اس نے ہماری جماعت کے بعض اوقاف میں دخل اندازی کی تھی لیکن اب انہوں نے لکھا ہے کہ جو نئے قوانین بنائے گئے ہیں ان میں کچھ گنجائش معلوم ہوتی ہے ان کے مطابق میں دوبارہ نالش کرنے لگا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے يدعون لك ابدال الشام ابدال شام تیرے لئے۔ا دعائیں کرتے ہیں جس کے معنے یہ ہیں کہ شام میں جماعت پھیلے گی پس جلد ۲۰