تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 146
تاریخ احمدیت 146 ہے۔ہے کوئی پٹھان ہے۔کوئی سید ہے اور کوئی کسی معزز قوم سے تعلق رکھتا اگر تمہیں میراثی بننے کا ہی شوق تھا تو تمہیں چاہئے تھا کہ تم میراثیوں کے گھر میں پیدا ہوتے۔مگر ایک طرف تو یہ کیفیت ہے کہ ہر شخص کو میراثی بننے کا شوق ہے اور دوسری طرف یہ حالت ہے کہ ذرا کسی سے کہہ دو کہ فلاں میراثی کی لڑکی سے شادی کر لو تو وہ لڑنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے کہ کیا تم مجھے میراثی سمجھتے ہو مگر بازار سے گزرتے ہوئے وہ وہی سریں لگاتا ہے جو میراثی لگایا کرتے ہیں۔اس کا بیٹا بھی وہی سریں لگاتا ہے جو میراثی لگایا کرتے ہیں۔اور ان کی وہ کوئی پرواہ نہیں کرتا۔غرض وہ آپ میراثی بنتا ہے اس کے بچے میراثی بنتے ہیں۔اس کی بیوی میراثن بنتی ہے لیکن اگر کہا جائے کہ فلاں میراثی کا رشتہ لے لو تو وہ برا مناتا ہے گویا اپنی بیوی کو میراشن بنانے میں تو وہ کوئی حرج نہیں سمجھتا اپنے بچوں کو میراثی بنانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا اسی طرح آپ میراثی بنے کو وہ کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن میراثی کولڑ کی دینے یا اس کی لڑکی لے لینے میں بڑی ذلت محسوس کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس کے متعلق بڑا بھاری سبق دیا تھا مگر افسوس ہے کہ انہوں نے پھر بھی نصیحت حاصل نہ کی۔دلی کی تباہی اس کی وجہ سے ہوئی۔بغداد کی تباہی اس کی وجہ سے ہوئی۔مصر کی تبا ہی اس کی وجہ سے ہوئی۔اندلس کی تباہی اس کی وجہ سے ہوئی اور یا تو وہ سارا ملک مسلمانوں کا تھا اور یا آج ایک ہی مسجد جو وہاں باقی ہے عیسائی اس کو بھی گرانے کی فکر میں ہیں۔غرض مسلمانوں پر انتہا درجہ کا ظلم ہوا مگر اب بھی انہیں یہی شوق ہے کہ سینما دیکھیں اور گانا بجانا سنیں۔وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ بڑا اچھا سینما آگیا ہے جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنے ہوتے ہیں کہ بڑا اچھا میراثی آگیا ہے۔غرض مسلمان برابر عیش و طرب میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی خدا تعالیٰ نے اس بات سے ڈرایا تھا اور فرمایا تھا کہ یاتى عليك زمن كمثل زمن موسى ( تذكره مطبوعہ ۱۹۷۷ء صفحہ ۴۶) تجھ پر بھی ایسا ہی زمانہ آنے والا ہے جیسے موسیٰ پر آیا تھا۔عام طور پر اس کے معنے سمجھے جاتے ہیں کہ جس طرح موسوی قوم کو فرعونی جلد ۲۰