تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 145
تاریخ احمدیت 145 بغداد پر کوئی حملہ نہیں کر سکتا جو حملہ کرے گا وہ خود تباہ ہو جائے گا۔لیکن جب اس سے کچھ نہ ہو سکا تو ہلا کو نے اپنا ایک آدمی اس کے پاس بھجوایا اور کہا کہ مجھے آکر ملو مستعصم باللہ جو بغداد کا آخری بادشاہ تھا وہ ہلاکو کے اس پیغام پر اسے ملنے کے لئے گیا۔ہلا کہ خان نے اس کے پہنچتے ہی حکم دے دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔پھر اس نے اس کے ولی عہد کو مارڈالا اور اس کے بعد بغداد پر حملہ کر کے اٹھارہ لاکھ آدمی ایک دن میں قتل کر دیئے۔اور شاہی خاندان کے جو افراد وہاں تھے اُن میں سے کوئی ایک فرد بھی نہ چھوڑ ا۔سب کو ہلاک کر دیا۔تا کہ آئندہ تخت کا کوئی دعویدار کھڑا نہ ہو۔غرض خلافت عباسیہ تباہ ہوئی تو گانے بجانے کی وجہ سے اسی طرح مغل تباہ ہوئے تو گانے بجانے کی وجہ سے۔محمد شاہ رنگیلے کو ”رنگیلا کیوں کہا جاتا ہے۔اسی لئے کہ وہ گانے بجانے کا بہت شوقین تھا۔بہادر شاہ جو ہندوستان کا آخری مغل بادشاہ تھا وہ بھی اسی گانے بجانے کی وجہ سے تباہ ہوا۔انگریزوں کی فوجیں کلکتہ سے بڑھ رہی تھیں الہ آباد سے بڑھ رہی تھیں کان پور سے بڑھ رہی تھیں میرٹھ سے بڑھ رہی تھیں۔سہارنپور سے بڑھ رہی تھیں اور بادشاہ کے حضور گانا بجانا ہو رہا تھا۔آخر انہوں نے اس کے بارہ بیٹوں کے سرکاٹ کر اور خوان میں لگا کر اس کی طرف بھیجے کہ یہ آپ کا تحفہ ہے کسی کا ایک بیٹا مر جاتا ہے تو وہ رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے مگر بہادر شاہ کے بارہ بیٹوں کے سرکاٹ کر اس کی طرف بھیجے گئے اس نے درخواست کی تھی کہ میرا وظیفہ بڑھایا جائے۔انگریزوں نے اس کے بارہ بیٹوں کے سر کاٹ کر اور خوان میں لگا کر اس کی طرف بھیج دیئے اور ساتھ ہی کہلا بھیجا کہ یہ آپ کا بڑھا ہوا وظیفہ ہے۔غرض تمام تباہی جو مسلمانوں پر آئی ، زیادہ تو گانے بجانے کی وجہ سے ہی آئی ہے۔اندلس کی حکومت گانے بجانے کی وجہ سے تباہ ہوئی۔مصر کی حکومت گانے بجانے کی وجہ سے تباہ ہوئی۔مصر پر صلاح الدین ایوبی نے حملہ کیا تو فاطمی بادشاہ اس وقت گانے بجانے میں مشغول تھا۔خدا نے مسلمانوں کو معزز بنایا تھا۔مگر نہ معلوم وہ میراثی کب بن گئے۔ہر ایک کو شوق ہے کہ میراثی بن جاؤں حالانکہ ان میں سے کوئی مغل جلد ۲۰