تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 144
تاریخ احمدیت 144 جلد ۲۰ <mark>سینما</mark> بینی کے خلاف حضرت مصلح موعود کی مؤثر آواز حضرت خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعود نے اس سال جماعت احمدیہ میں بے پردگی کے خلاف مہم جاری کرنے کے بعد <mark>سینما</mark> بینی کے خلاف بھی آواز بلند کی اور ۲۹ اگست ۱۹۵۸ء کے خطبہ جمعہ میں اس کے ہولناک اثرات پر تاریخی نقطہ نگاہ سے روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا : - اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں مومنوں کو ہدایت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے مومنوں تم شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گانا بجانا اور باجے وغیرہ یہ سب شیطان کے ذرائع ہیں جن سے وہ لوگوں کو بہکاتا ہے۔پس عیاشی کے تمام سامان اور باجے اور گانا بجانا شیطان کے ہتھیار ہیں۔جن سے وہ لوگوں کو ورغلایا کرتا ہے۔اسی لئے میں نے جماعت کو ہدایت کی تھی کہ <mark>سینما</mark> نہ دیکھا کرو۔کیونکہ اس میں بھی گانا بجانا ہوتا ہے۔پہلے یہ چیز تھیٹر میں ہوا کرتی تھی لیکن جب سے ٹا کی نکل آئی ہے <mark>سینما</mark> میں بھی یہ چیزیں آ گئی ہیں۔بلکہ اس سے زیادہ بڑے پیمانے پر آئی ہیں۔کیونکہ تھیٹر کا صرف ایک شو ہوتا تھا۔جس میں بڑے بڑے ماہرین کو بلانا بہت بڑے اخراجات کا متقاضی ہوتا تھا۔جس کو وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔اور پھر ایک شو صرف ایک ہی جگہ دکھایا جا سکتا تھا۔مگر اب ایک سے ہزاروں فلمیں تیار کر کے سارے ملک میں پھیلا دی جاتی ہیں اور بڑے بڑے ماہر فن گویوں کو بلایا جاتا ہے اس لئے تھیٹر سے <mark>سینما</mark> کا ضرر بہت زیادہ ہوتا ہے۔چند دن ہوئے مجھے ملتان سے ایک دوست کا خط آیا کہ احمدی نوجوانوں میں <mark>سینما</mark> دیکھنے کا رواج پھر بڑھتا چلا جاتا ہے۔اس لئے ضرورت ہے کہ اس کی روک تھام کی جائے۔مجھے تعجب آتا ہے کہ یہ نوجوان اتنے جاہل کیوں ہو گئے کہ انہیں اپنی تاریخ کا بھی پتہ نہیں اگر وہ پڑھے لکھے ہوتے اور انہیں تاریخ سے ذرا بھی واقفیت ہوتی تو انہیں معلوم ہوتا کہ بغداد بھی گانے بجانے سے تباہ ہوا ہے۔جب ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا تو بادشاہ کی اس وقت یہی آواز آتی تھی کہ گانے والیوں کو بلا ؤ گانے والیوں کو بلاؤ۔