تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 143
تاریخ احمدیت 143 جلد ۲۰ آزادی مذہب کی عالمی تنظیم میں حضرت آزادی مذہب کی عالمی تنظیم چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب کا لیکچر (INTERNATIONAL ASSOCIATION FOR RELIGIOUS FREEDOM) کا چھٹا اجلاس ۱۰ راگست ۱۹۵۸ء کو واشنگٹن میں منعقد ہوا۔اس اجلاس میں دنیا کے پانچ مشہور مذاہب کے نمائندوں نے حصہ لیا۔حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے شرکت فرمائی اور ایک پر مغز، جامع اور معلومات افروز لیکچر دیا۔آپ نے بتایا کہ موجودہ عالمی مسائل کا اسلام کیا حل پیش کرتا ہے۔اس ضمن میں آپ نے توحید، انسانی مساوات ، آزادی ضمیر، مجلس اقدار، اقتصادیات اور بین الاقوامی تعلقات کی نسبت اسلامی تعلیم پر اثر انگیز رنگ میں روشنی ڈالی اور واضح فرمایا کہ اسلام زندہ مذہب اور قرآن زندہ کتاب ہے جو آج بھی پوری انسانیت کی راہنمائی کر سکتی ہے آخر میں آپ نے پرزور الفاظ میں دعوت دی کہ خدائے واحد کی طرف واپس آ جاؤ۔چوہدری صاحب کا یہ معرکہ آراء لیکچر پہلے رسالہ ریویو آف ریلیجینز انگریزی (ربوہ) ( ستمبر ۱۹۵۸ء) میں چھپا بعد ازاں نومبر ۱۹۶۴ء میں اسے نظارت دعوت و تبلیغ قادیان کی طرف سے رسالہ کی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔حضرت مصلح موعود کا نظریہ پاکستان سیدنا حضرت مصلح موعود کی خدمت میں جناب شیخ فضل حق صاحب صدر جماعت احمدیہ میں اسلامی حکومت سے متعلق سمی (بلوچستان) نے ایک مکتوب میں اپنی خواب لکھی تھی جس پر حضرت اقدس کے پرائیویٹ سیکرٹری مولوی عبدالرحمن انور صاحب نے ۱۰ را گست ۱۹۵۸ء کو درج ذیل مکتوب ارسال کیا : آپ کا خط سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ بصرہ العزیز کے ملاحظہ میں آیا۔فرمایا اللہ تعالیٰ خواب کو پورا کرے دیر بہت ہو گئی ہے اور پاکستان اب تک اسلامی حکومت قائم نہیں کرسکا۔اسلامی حکومت قائم ہونے کے لئے ضروری ہے کہ قادیان مل جائے۔والسلام خاکسار عبدالرحمن انور پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الثانی