تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 142 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 142

تاریخ احمدیت 142 جلد ۲۰ خدمت میں دنبہ بھی پیش کر دیا اور اشرفی بھی واپس دے دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اشرفی کیوں واپس کر رہے ہو اس نے کہا یا رسو اللہ میں باہر دیہات میں نکل گیا تھا یہاں تو ایک اشرفی کا ایک ہی دنبہ آتا ہے مگر باہر گاؤں میں جا کر ایک اشرفی کے دو دنبے مل گئے جب میں واپس آیا تو میں نے شہر میں ایک دونبہ ایک اشرفی میں فروخت کر دیا۔اب دنبہ بھی حاضر ہے اور اشرفی بھی آپ کی خدمت میں پیش ہے۔تو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندہ کے روپیہ میں بڑی ۴۶ برکت پیدا فرما دیتا ہے اور اس کا تھوڑا سا روپیہ بھی اس کی ضروریات کو پورا کر دیتا ہے۔۲۔( خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۵۸ء) " حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں جو آخری جلسہ سالا نہ ہوا اس میں سات سو آدمی شامل ہوا تھا اب ربوہ کی آبادی بھی بارہ ہزار ہے مگر ان سات سو افراد کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمانے لگے کہ معلوم ہوتا ہے کہ جس کام کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں بھیجا تھا وہ پورا ہو گیا ہے اس جلسہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کے لئے باہر تشریف لے گئے۔تو ہجوم کی وجہ سے آپ کو بار بار ٹھوکر لگتی اور چھڑی آپ کے ہاتھ سے گر جاتی پھر آپ اٹھاتے تو تھوڑی دیر کے بعد کسی اور کی ٹھوکر سے چھڑی گر جاتی۔اس ہجوم میں ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے چاہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب پہنچ جائے مگر دوسروں نے دھکا دے کر اسے پیچھے ہٹا دیا۔اسے دیکھ کر ایک پرانا احمدی بڑے جوش سے کہنے لگا تجھے دھکوں کی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہئے تھی چاہے تیرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے پھر بھی تیرا کام یہی تھا کہ تو آگے بڑھتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مصافحہ کر کے آتا۔یہ مبارک وقت کب نصیب ہونا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے لئے قربانی کرنا ایک بڑا انعام ہے ڈرنے اور گھبرانے کی بات نہیں ہوتی۔پس ہماری جماعت کو اس عظیم الشان کام کی تکمیل کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے سپرد کیا گیا ہمیشہ کوشش کرتے رہنا چاہئے۔اس وقت دنیا کی آبادی سوا دوارب ہے لیکن ممکن ہے اس کام کی تکمیل تک یہ آبادی تین چار ارب ہو جائے اور ہمارا کام اور بھی بڑھ جائے۔بہر حال جماعت کی تعداد کو ترقی دینے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ ہماری نسبت بمقابلہ کم ہوتی چلی جائے اگر ہم جلدی ہی دس کروڑ تک پہنچ جائیں تو پھر دس ارب تک ہمارے ایک ایک آدمی کو سوسو کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔یہ کام اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کیا تھا اور ہم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہم آپ کے کام کو پورا کریں گے۔اس کے لئے ہمیں اپنی جان ، عزت آبرو سب کچھ لگا دینی چاہئے۔۴۷