تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 132
تاریخ احمدیت 132 جلد ۲۰ اگر اللہ تعالیٰ یہ سامان پیدا نہ کرتا تو میں کیا کرتا اور میرے لئے خدمت کا کون سا دروازہ کھولا جاتا اور جماعت میں روز مرہ بڑھنے والا فتنہ کس طرح دور کیا جاسکتا۔۳۹ 66 الفضل ۴ جولائی ۱۹۲۴ء صفحہ ۴ کالم نمبر اعنوان یا دایام) حضرت سیدہ ام ناصر کی پاکیزہ سیرت سے متعلق حضرت سیدہ ام ناصر کے وصال کے بعد آپ کی پاکیزہ خاندان حضرت مسیح موعود کے ایمان افروز تاثرات سیرت پر کئی مخلص احمدی دوستوں اور خواتین نے اپنے چشم دید واقعات قلم بند کر کے الفضل میں شائع کرائے۔احمدی شعراء نے ان کے اوصاف حمیدہ پر نظمیں کہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کی مبارک زندگی کا صحیح نقشہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے قلم مبارک ہی نے کھینچا۔چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ” ہماری بھا وجہ صاحبہ کا انتقال اور احباب کرام کا شکریہ کے زیر عنوان اپنے قلبی تاثرات بایں الفاظ بیان فرمائے :- وو ” ہماری بھا وجہ صاحبہ سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ کی وفات کو جماعت میں جس رنگ میں محسوس کیا گیا ہے وہ ان کی غیر معمولی ہر دلعزیزی اور نیکی اور تقویٰ کا ایک بین ثبوت ہے۔ہر چند کہ گزشتہ چند دن سے ان کی بیماری کے متعلق الفضل میں اعلانات چھپ رہے تھے اور بیماری کے تشویشناک پہلو کے متعلق بھی اشارات کافی واضح تھے پھر بھی ان کی وفات کی خبر ایک اچانک صدمے کے رنگ میں محسوس کی گئی جس نے اس کی تلخی کو بہت بڑھا دیا۔مگر اس حادثہ کا زیادہ تلخ پہلو یہ ہے کہ بعض ناگزیر حالات کی وجہ سے اور کسی قدر نامکمل اطلاعات کی بنا پر مرحومہ کے زندگی بھر کے رفیق حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ بھی جو اس وقت نخلہ میں تشریف رکھتے تھے ان کی زندگی میں مری نہیں پہنچ سکے اور یہ حسرت دونو کے دلوں میں رہی ہوگی کہ اس دنیائے نا پائیدار میں ان کی آخری ملاقات نہیں ہوسکی۔اور حضرت صاحب تیز سفر کرنے کے باوجود وفات سے چار پانچ گھنٹے کے بعد مری پہنچے۔